پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال (ایل آر ایچ) کی ایمرجنسی میں مبینہ طور پر ایک کلاس فور ملازم کے پستول سے اچانک فائر ہوگیا، جس کے باعث مریضوں اور ان کے لواحقین میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔
ہسپتال ذرائع کے مطابق فائر ہونے والی گولی الٹراساؤنڈ روم کے کمپیوٹر پر جا لگی جس سے ڈیٹا بیس کمپیوٹر کو جزوی نقصان پہنچا تاہم خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان یا زخمی نہیں ہوا۔ واقعے کے وقت ہسپتال کا عملہ اور مریض محفوظ رہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حساس عمارت کے اندر لوڈڈ پستول کا لے جانا ہسپتال کی سیکیورٹی پر سنگین سوالات اٹھا رہا ہے جبکہ موقع پر موجود سیکیورٹی انتظامات پر بھی تشویش ظاہر کی جا رہی ہے۔
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے واقعے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے اسے ایک لیڈی ڈاکٹر کو نشانہ بنانے کی کوشش قرار دیا ہے۔
تنظیم کے مطابق فائرنگ کے دوران ایک لیڈی ڈاکٹر بال بال بچ گئیں اور اس واقعے کی سخت مذمت کی جاتی ہے، ینگ ڈاکٹرز نے سوشل میڈیا پر مؤقف اختیار کیا کہ سیکڑوں سیکیورٹی اہلکاروں کی موجودگی میں اسلحہ اندر لے جانا ادارہ جاتی ناکامی ہے۔
ڈاکٹرز تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ اگر واقعے میں ملوث کلاس فور ملازم کو فوری گرفتار نہ کیا گیا تو تمام سروسز کے بائیکاٹ پر غور کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: خیبر:لنڈی کوتل میں سی ٹی ڈی اہلکارنامعلوم افراد کی فائرنگ سے شہید
دوسری جانب لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے ترجمان محمد عاصم نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ متعلقہ کلاس فور ملازم ریسٹ روم میں اپنا یونیفارم تبدیل کر رہا تھا اسی دوران پستول اچانک چل گیا۔
ترجمان لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے مطابق اس واقعے کو سوشل میڈیا پر غلط رنگ دے کر ڈاکٹر پر حملے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
ہسپتال انتظامیہ نے واقعے کی انکوائری کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ مکمل رپورٹ کل تک پیش کرنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔





