انسانی حقوق کی حفاظت اور قانونی اصلاحات کے میدان میں گراں قدر خدمات انجام دینے پر جسٹس پروجیکٹ پاکستان کی بانی اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر سارہ بلال کو “تمغۂ امتیاز 2026” سے نواز دیا گیا ہے ۔
یہ اعزاز ایک ایسے ادارے کی طویل اور صبر آزما جدوجہد کا اعتراف ہے جو گزشتہ دو دہائیوں سے پاکستان کے نظامِ انصاف میں سب سے زیادہ غیر محفوظ اور نظر انداز کیے گئے طبقے کے حقوق کے لیے سینہ سپر ہے جسٹس پروجیکٹ پاکستان (JPP) کی بنیاد 2009 میں اس وقت پڑی جب سارہ بلال نے سزائے موت کے ایک قیدی کی طرف سے موصول ہونے والے امداد کے خط پر لبیک کہتے ہوئے اسے قانونی مدد فراہم کرنے کا فیصلہ کیا یہی ایک فون کال آگے چل کر ایک ایسے ادارے کی بنیاد بنی جس نے ملک کے مشکل ترین اور اکثر عوامی سطح پر غیر مقبول سمجھے جانے والے مقدمات کو ہاتھ میں لیا اور انصاف کے حصول کو ممکن بنایا۔
جسٹس پروجیکٹ پاکستان کی خدمات کا دائرہ کار سزائے موت کے قیدیوں، شدید ذہنی بیماری میں مبتلا افراد، حراستی تشدد کے متاثرین اور بیرونِ ملک قید ان پاکستانیوں تک پھیلا ہوا ہے جو قانون کے دائرہ تحفظ سے محروم رہے ہیں ادارے نے اپنی اسٹریٹجک مقدمہ بازی، تحقیق اور عوامی وکالت کے ذریعے پاکستان کے قانونی ڈھانچے میں اہم تبدیلیاں متعارف کروائیں جن کے مثبت نتائج آج واضح طور پر نظر آ رہے ہیں ۔
جے پی پی کی کوششوں کی بدولت دسمبر 2019 کے بعد سے پاکستان میں کسی قیدی کو پھانسی نہیں دی گئی جبکہ سپریم کورٹ کے اس تاریخی فیصلے میں بھی ادارے کا کلیدی کردار رہا جس کے تحت شدید ذہنی مریضوں کو سزائے موت دینے پر پابندی عائد کی گئی مزید برآں پاکستان میں حراستی تشدد کو جرم قرار دینے والے پہلے قانون کی منظوری بھی اس ادارے کی بڑی کامیابیوں میں شمار کی جاتی ہے۔
ملکی حدود سے باہر بھی جے پی پی نے بگرام جیسی جیلوں میں بغیر کسی جرم کے قید پاکستانیوں کے لیے قانونی جنگ لڑی اور یہ اصول ثابت کیا کہ ریاست کے ہر شہری کو چاہے وہ دنیا کے کسی بھی کونے میں ہو انصاف اور قانونی تحفظ کا مکمل حق حاصل ہے ان کوششوں کے نتیجے میں سینکڑوں پاکستانیوں کی وطن واپسی ممکن ہو سکی۔
سارہ بلال نے اس اعزاز کو ان تمام قیدیوں اور خاندانوں کے نام کیا ہے جنہوں نے نظام سے مایوسی کے باوجود ادارے پر بھروسہ کیا ان کا کہنا ہے کہ یہ تمغہ ان لوگوں کا ہے جنہوں نے سزائے موت کی کال کوٹھڑیوں سے ہمیں خطوط لکھے اور اس ٹیم کا ہے جو آج بھی روزانہ کی بنیاد پر انسانی حقوق کی بقا کے لیے کام کر رہی ہے ۔
ادارے کا عزم ہے کہ جب تک پاکستان کا نظامِ انصاف حراستی تشدد اور غلط سزاؤں جیسے مسائل سے مکمل پاک نہیں ہو جاتا ان کی یہ انسانی اور قانونی جدوجہد جاری رہے گی۔





