کالعدم تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے اندر شدید اندرونی اختلافات اور دھڑے بندی کے باعث خونی تصادم شروع ہو گیا ہے جس کے نتیجے میں تنظیم کے اہم سوشل میڈیا آپریٹوبہوٹ کے بڑے بھائی حیات خان کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنا کر قتل کر دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق حیات خان کو کالعدم بی ایل اے کے اہم کمانڈر بشیر زیب کے حکم پر قتل کیا گیا ہے۔ یہ کارروائی تنظیم کی قیادت کی جانب سے مرضی کے خلاف کیے گئے ایک اغوا کے واقعے کے ردعمل میں کی گئی ہےجو کالعدم گروپ کے اندر تنظیمی کنٹرول اور طاقت حاصل کرنے کی شدید جنگ کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
رپورٹس کے مطابق اس خونی اندرونی تنازع کا آغاز اس وقت ہوا جب گوادر یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر، پرو وائس چانسلر سید منظور احمد اور فیکلٹی کے دو دیگر ارکان کو کوئٹہ جاتے ہوئے راستے سے اغوا کر لیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں : آسٹریلیا نے بھی کالعدم بی ایل اے کو دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا
تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ وائس چانسلر کا اغوا ان کی اہلیہ کے خاندان اوربہوٹ و حیات خان کے درمیان جاری قبائلی دشمنی کا نتیجہ تھا جو کہ مکمل طور پر ایک ذاتی معاملہ تھا۔ چونکہ یہ اغوا کمانڈر بشیر زیب کی منظوری یا اجازت کے بغیر کیا گیا تھااس لیے انہوں نے تنظیم پر اپنی گرفت برقرار رکھنے کے لیے حیات خان کو عبرتناک اور بے رحمانہ طریقے سے قتل کرنے کا حکم دیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کالعدم تنظیم کے مختلف دھڑوں کے درمیان جاری اس لڑائی کے باعث آنے والے دنوں میں مزید ٹارگٹ کلنگ اور ایک دوسرے پر قاتلانہ حملوں کے احکامات جاری ہونے کا شدید خدشہ ہے۔





