پشاور: خیبر پختونخوا کے ضلع دیر بالا میں جنگلات کی بڑے پیمانے پر کٹائی کا انکشاف ہوا ہے، جس کے بعد صوبے میں جنگلات کے تحفظ سے متعلق خدشات ایک بار پھر شدت اختیار کر گئے ہیں۔ یہ انکشاف 2019 اور 2026 کی ہائی ریزولوشن سیٹلائٹ تصاویر کے تقابلی جائزے میں سامنے آیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اسپیس فار کلائمیٹ سے حاصل کردہ تصاویر میں خیبر پختونخوا کے علاقے شیرنگل کے جٹکول گاؤں کے قریب متعدد مقامات پر قدرتی جنگلات کے وسیع حصے ختم ہوتے دکھائی دیے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ سات برسوں کے دوران ان علاقوں میں گھنے درختوں کی جگہ بنجر زمین نے لے لی ہے۔
دستیاب جائزے کے مطابق تقریباً 66.58 ہیکٹر (164.5 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلاتی رقبہ مکمل طور پر صاف کیا جا چکا ہے۔
سیٹلائٹ تصاویر کے موازنہ میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ 2019 میں جہاں گھنا سبز جنگل موجود تھا، وہ 2026 تک نمایاں طور پر درختوں سے خالی ہو چکا ہے۔
یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ علاقے میں مسلسل درختوں کی کٹائی اور جنگلاتی وسائل پر دباؤ برقرار ہے، جس سے قدرتی ماحول متاثر ہو رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : خیبرپختونخوا میں سیلاب بحالی منصوبوں میں کروڑوں کی کرپشن کا انکشاف
ماہرین کے مطابق جنگلات کے خاتمے کے باعث ماحولیاتی نظام پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جنگلات کے ختم ہونے سے لینڈ سلائیڈنگ، مٹی کے کٹاؤ اور پانی کے بہاؤ میں عدم توازن جیسے خطرات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
ماہرین نے مزید خبردار کیا ہے کہ جنگلات کی تباہی نہ صرف جنگلی حیات کے مسکن کو نقصان پہنچاتی ہے بلکہ حیاتیاتی تنوع میں کمی کا باعث بھی بنتی ہے۔
اس پیشرفت کے بعد خیبر پختونخوا میں غیر قانونی درختوں کی کٹائی کے حوالے سے تشویش مزید بڑھ گئی ہے، جبکہ متعلقہ اداروں سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔





