امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران پر “فیصلہ کن حملہ” پاکستان کے بعض “بہت اچھے لوگوں” کی درخواست پر روکا گیا، جن کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ وہ ایران کے بہت قریب ہیں اور انہوں نے مذاکرات کے ذریعے معاملہ حل کرنے کی تجویز دی تھی۔
امریکی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ ان شخصیات نے ان سے کہا کہ حملہ روکا جائے اور ڈیل کرانے کی کوشش کی جائے۔ ان کے مطابق کہا گیا کہ “کیا آپ رک سکتے ہیں، ہم ڈیل کرا دیں گے۔”
ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہر بار معاہدے کے بعد ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے بات چیت کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ ان کے بقول ایران کے رویے میں تسلسل نہیں ہے اور بعض اوقات معاملات پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔
اس کے علاوہ چین سے واپسی پر ایئر فورس ون میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ جنگ بندی کے حق میں نہیں تھے، تاہم دیگر
ممالک کے کہنے پر جنگ بندی کی گئی، جسے انہوں نے “پاکستان پر ایک طرح کی نوازش” قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں : دیر بالا میں جنگلات کی بڑے پیمانے پر کٹائی، سیٹلائٹ تصاویر نے حقیقت آشکار کردی
انہوں نے پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تعریف کرتے ہوئے دونوں کو “شاندار شخصیات” قرار دیا۔
دوسری جانب امریکی صدر نے اپنے دورہ چین کو کامیاب اور تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہاں اہم تجارتی معاہدے ہوئے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات بہتر ہو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ پیش رفت مثبت رہی ہے اور مستقبل میں مزید تعاون کی توقع ہے۔





