خیبرپختونخوا میں سیلاب بحالی منصوبوں میں کروڑوں کی کرپشن کا انکشاف

خیبرپختونخوا میں سیلاب متاثرہ علاقوں کی بحالی کے منصوبوں میں مبینہ بے ضابطگیوں اور کروڑوں روپے کی کرپشن کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ کوہستان اسکینڈل کے بعد ایک اور بڑا معاملہ منظر عام پر آنے سے صوبائی اسمبلی میں بھی تشویش پائی جا رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق اپر اور لوئر دیر میں 2022ء کے تباہ کن سیلاب کے بعد انفراسٹرکچر کی بحالی کیلئے متعدد منصوبے شروع کیے گئے تھے، جن میں سڑکوں، پلوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کی تعمیر شامل تھی۔

ان منصوبوں کیلئے 47 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کیے گئے تھے تاہم چار سال گزرنے کے باوجود بیشتر منصوبے مکمل نہ ہوسکے۔

معاملہ اس وقت مزید سنگین ہوگیا جب خیبرپختونخوا اسمبلی میں بحالی منصوبوں میں تاخیر پر سوالات اٹھائے گئے۔ بعد ازاں معاملہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کیا گیا جس نے محکمہ سی اینڈ ڈبلیو سے تفصیلی رپورٹ طلب کی۔

ذرائع کے مطابق محکمہ کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ میں کئی نامکمل منصوبوں کو کاغذی کارروائی میں مکمل ظاہر کیا گیا، جس پر قائمہ کمیٹی نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے رپورٹ مسترد کردی۔

یہ بھی پڑھیں : فاروق عبداللہ نے پاکستان سے مذاکرات کیلئے آر ایس ایس اور سابق بھارتی آرمی چیف کے بیانات کی حمایت کردی

قائمہ کمیٹی نے معاملے کی تحقیقات کیلئے صوبائی اراکین اسمبلی پر مشتمل تین رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔

کمیٹی آئندہ 15 روز کے دوران متاثرہ علاقوں کا دورہ کرکے منصوبوں کی صورتحال کا جائزہ لے گی اور اپنی تفصیلی رپورٹ قائمہ کمیٹی میں پیش کرے گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ تحقیقات میں مالی بے ضابطگیوں اور ترقیاتی فنڈز کے استعمال سے متعلق اہم انکشافات سامنے آنے کا امکان ہے، جبکہ اپوزیشن ارکان نے معاملے کی شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

Scroll to Top