خیبر پختونخوا کابینہ میں حالیہ توسیع کے بعد پی ٹی آئی کے اندر سے شکوے اور تحفظات سامنے آگئے ہیں۔ پارٹی کے مختلف رہنماؤں نے کابینہ میں نئے ارکان کی شمولیت کے طریقہ کار اور میرٹ پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
سابق گورنر خیبر پختونخوا اور پی ٹی آئی رہنما شاہ فرمان نے نئے کابینہ ارکان کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ بطور انٹرنل اکاؤنٹیبلٹی کمیٹی کے رکن ان سے کابینہ کے حوالے سے نہ تو مشاورت کی گئی اور نہ ہی ان کی کوئی تجویز لی گئی۔
دوسری جانب سابق صوبائی وزیر نیک محمد نے کابینہ میں تقرریوں پر سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نئے افراد کو میرٹ کے بجائے دیگر بنیادوں پر شامل کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ ان کا فون تک اٹھانے کے لیے تیار نہیں، جبکہ وہ وزارت کے لیے رابطہ نہیں کرتے بلکہ صرف مسائل اجاگر کرنے کے لیے بات کرتے ہیں۔
نیک محمد نے مزید کہا کہ کابینہ میں بعض ایم این ایز کے قریبی افراد کو شامل کیا گیا ہے، جبکہ جنوبی اور شمالی وزیرستان سمیت بنوں کی مناسب نمائندگی نہیں دی گئی۔
واضح رہے کہ صوبائی حکومت کی جانب سے حالیہ کابینہ توسیع میں 6 نئے وزراء، 4 مشیر اور 8 معاونینِ خصوصی کو شامل کیا گیا ہے، جس کے بعد مجموعی طور پر نئی ٹیم نے اپنے عہدوں کا حلف بھی اٹھا لیا ہے۔





