خلیجی قیادت کی درخواست پر امریکا نے ایران پر حملہ معطل کردیا

واشنگٹن : امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران پر مجوزہ امریکی فوجی حملے کو عارضی طور پر مؤخر کر دیا گیا ہے۔

اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ٹرتھ سوشل” پر جاری بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ انہیں قطر کے امیر تمیم بن حمد آل ثانی، سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان آل سعود اور متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زاید آل نہیان کی جانب سے درخواست موصول ہوئی کہ ایران کے خلاف مجوزہ فوجی کارروائی کو روکا جائے۔

ٹرمپ کے مطابق خلیجی رہنماؤں نے مؤقف اختیار کیا کہ اس وقت خطے میں مذاکرات کا عمل جاری ہے اور ایک ایسا ممکنہ معاہدہ سامنے آ سکتا ہے جو تمام فریقین کے لیے قابل قبول ہو، جس میں ایران کے جوہری ہتھیاروں کی مکمل روک تھام شامل ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں : ایران کے پاس وقت ختم ہو رہا ہے، اب فیصلہ کرنا ہوگا، ٹرمپ

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان درخواستوں کو مدنظر رکھتے ہوئے امریکی فوج کو ہدایت دی گئی ہے کہ ایران پر طے شدہ حملہ فی الحال نہ کیا جائے۔

تاہم ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر مذاکرات ناکام ہوتے ہیں تو امریکہ “بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی” کے لیے مکمل طور پر تیار رہے گا۔

اس بیان پر امریکی محکمہ دفاع یا دیگر سرکاری اداروں کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

Scroll to Top