واشنگٹن : امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران پر مجوزہ امریکی فوجی حملے کو عارضی طور پر مؤخر کر دیا گیا ہے۔
اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ٹرتھ سوشل” پر جاری بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ انہیں قطر کے امیر تمیم بن حمد آل ثانی، سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان آل سعود اور متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زاید آل نہیان کی جانب سے درخواست موصول ہوئی کہ ایران کے خلاف مجوزہ فوجی کارروائی کو روکا جائے۔
𝗗𝗼𝗻𝗮𝗹𝗱 𝗝. 𝗧𝗿𝘂𝗺𝗽 𝗧𝗿𝘂𝘁𝗵 𝗦𝗼𝗰𝗶𝗮𝗹 𝟱.𝟭𝟴.𝟮𝟲 𝟬𝟯:𝟬𝟭 𝗣𝗠 𝗘𝗦𝗧
I have been asked by the Emir of Qatar, Tamim bin Hamad Al Thani, the Crown Prince of Saudi Arabia, Mohammed bin Salman Al Saud, and the President of the United Arab Emirates, Mohamed bin…
— Commentary Donald J. Trump Posts From Truth Social (@TrumpDailyPosts) May 18, 2026
ٹرمپ کے مطابق خلیجی رہنماؤں نے مؤقف اختیار کیا کہ اس وقت خطے میں مذاکرات کا عمل جاری ہے اور ایک ایسا ممکنہ معاہدہ سامنے آ سکتا ہے جو تمام فریقین کے لیے قابل قبول ہو، جس میں ایران کے جوہری ہتھیاروں کی مکمل روک تھام شامل ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں : ایران کے پاس وقت ختم ہو رہا ہے، اب فیصلہ کرنا ہوگا، ٹرمپ
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان درخواستوں کو مدنظر رکھتے ہوئے امریکی فوج کو ہدایت دی گئی ہے کہ ایران پر طے شدہ حملہ فی الحال نہ کیا جائے۔
تاہم ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر مذاکرات ناکام ہوتے ہیں تو امریکہ “بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی” کے لیے مکمل طور پر تیار رہے گا۔
اس بیان پر امریکی محکمہ دفاع یا دیگر سرکاری اداروں کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔





