کروڑوں روپے سے خریدی گئی ادویات معائنہ میں غیر معیاری قرارمتعدد ادویات لیبارٹری ٹیسٹ سے پہلے ہی ابتدائی انسپکشن میں مسترد، محکمہ صحت میں کھلبلی مچ گئی بھاری کمیشن کیلئے غیر معیاری کمپنیوں کو نوازا گیا، قواعد و ضوابط نظر انداز کر کے ادویات کی خریداری کی گئی
محکمہ صحت خیبر پختونخوا میں ادویات کی خریداری کا ایک اور مبینہ میگا سکینڈل سامنے آگیا ہے جہاں کروڑوں روپے سے خریدی گئی ادویات انسپکشن کے دوران غیر معیاری قرار دے دی گئیں۔ ذرائع کے مطابق متعدد ادویات کو باقاعدہ لیبارٹری ٹیسٹ سے پہلے ہی ابتدائی انسپکشن میں مسترد کر دیا گیا، جس کے بعد محکمہ صحت میں کھلبلی مچ گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مختلف ہسپتالوں اور مراکز صحت کیلئے خریدی گئی ادویات معیار پر پوری نہ اتر سکیں اور انسپکشن ٹیم نے انہیں ناقص قرار دیتے ہوئے فیل کر دیا۔ حیران کن طور پر ادویات ابھی لیبارٹری تجزئیے کے مرحلے تک بھی نہیں پہنچیں لیکن ابتدائی جانچ میں ہی ان کے معیار پر سنگین سوالات ات اٹھ گئے ہیں ۔
محکمہ صحت کے اندرونی حلقوں کا دعویٰ ہے کہ مبینہ طور پر بھاری کمیشن کے حصول کیلئے غیر معیاری کمپنیوں کو نوازا گیا اور قواعد و ضوابط نظر انداز کرتے ہوئے ادویات کی خریداری کی گئی۔ ذرائع کے مطابق بعض کمپنیوں کو مبینہ طور پر سیاسی اور انتظامی پشت پناہی بھی حاصل رہی جس کے باعث ناقص ادویات سپلائی کرنے کے با وجود انہیں ٹھیکے دیئے گئے ۔
محکمہ صحت ذرائع کے مطابق معاملے کی حساسیت کے باعث متعلقہ ریکارڈ کو خفیہ رکھا جا رہا ہے تا ہم انسپکشن رپورٹ سامنے آنے کے بعد اعلیٰ حکام شدید دباؤ میں ہیں۔ عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر معیاری ادویات کی خریداری میں ملوث افسروں اور کمپنیوں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے اور تمام خریداریوں کا فرانزک آڈٹ کرایا جائے۔





