وفاقی حکومت کے بجٹ اور معاشی صورتحال کے حوالے سے ایک تفصیلی رپورٹ سامنے آئی ہے جس میں ہوش رُبا اعداد و شمار پیش کیے گئے ہیں۔
اس رپورٹ کے مطابق وفاق کی کل آمدنی 19278 ارب روپے ہے جس میں سے 8206 ارب روپے اٹھارویں ترمیم کے تحت صوبوں کو منتقل کر دیے جاتے ہیں جبکہ 8207 ارب روپے قرضوں اور سود کی ادائیگی کی نذر ہو جاتے ہیں۔ ان دو بڑی ادائیگیوں کے بعد وفاق کے پاس اپنے تمام تر انتظام چلانے کے لیے محض 2865 ارب روپے باقی بچتے ہیں۔
وفاق کو اسی قلیل رقم میں اپنے وہ تمام دفاعی اخراجات پورے کرنے ہیں جن میں ایٹمی پروگرام، میزائل پروگرام، نیوی، ائر فورس اور بری افواج کے اخراجات سمیت دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ پر آنے والا خرچ شامل ہے جس کا مجموعی تخمینہ 2550 ارب روپے ہے۔
اس کے علاوہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام جیسے وظائف کے لیے 1928 ارب روپے، بجلی سمیت مختلف اشیاء پر دی جانے والی سبسڈیز کے لیے 1186 ارب روپے، سرکاری ملازمین کی پنشن کے لیے 1000 ارب روپے اور ملک بھر میں جاری ترقیاتی پروگراموں بشمول ڈیمز اور موٹرویز کے لیے مزید 1000 ارب روپے درکار ہیں۔
رپورٹ میں مزید نشاندہی کی گئی ہے کہ وفاقی حکومت کو چلانے کے انتظامی اخراجات، ریلوے، پی آئی اے، اسٹیل مل اور بجلی کمپنیوں کے خسارے بھی 1000 ارب روپے سے زائد ہیں جو وفاق کو ہی پورے کرنا پڑتے ہیں۔ اس طرح وفاق کے پاس دستیاب رقم 2865 ارب ہے جبکہ اخراجات کا پہاڑ 8664 ارب روپے تک جا پہنچتا ہے۔
5799 ارب روپے کے بڑے مالیاتی فرق کو پورا کرنے کے لیے حکومت کو مزید قرض لینا پڑتا ہے جس کے نتیجے میں اٹھارویں ترمیم کے بعد صرف 15 سال کے عرصے میں پاکستان کا مجموعی قرضہ 10 ہزار ارب سے بڑھ کر ایک لاکھ ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ سلسلہ نہ روکا گیا تو مستقبل میں تمام آمدن صرف سود کی ادائیگی میں چلی جائے گی اور نہ صوبوں کو کچھ ملے گا نہ وفاق کے پاس کچھ بچے گا۔ اس صورتحال کے حل کے طور پر یہ تجویز سامنے آئی ہے کہ یا تو وفاق پہلے کی طرح سارا بجٹ خود چلائے کیونکہ صوبوں کو ملنے والا پیسہ کرپشن کی نذر ہو کر عوام تک نہیں پہنچ رہا یا پھر دوسرا حل یہ ہے کہ صوبے بھی دفاع، پنشن، وظائف اور بجلی کی چوریوں جیسے قومی بوجھ میں اپنی آمدنی کے تناسب سے حصہ ڈالیں تاکہ ملک کو معاشی تباہی سے بچایا جا سکے۔
یہ بھی مشاہدہ کیا گیا ہے کہ اٹھارویں ترمیم سے پہلے وفاق مضبوط تھا اور صوبے ایک دوسرے کے قریب تھے لیکن بجٹ کی اس تقسیم نے وفاق کو کمزور اور صوبوں کو ایک دوسرے سے دور کر دیا ہے۔





