سیکیورٹی فورسز نے مہینوں پر محیط انتہائی پیچیدہ اور خفیہ انٹیلی جنس آپریشن کے بعد فتنۃ الخوارج کے اہم ترین کمانڈر بصیر کو اس کے منطقی انجام تک پہنچا کر دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو کمر توڑ ضرب لگائی ہے۔
ہلاک ہونے والا خارجی دہشت گرد 30 ستمبر 2025 کو کوئٹہ میں ایف سی نارتھ بلوچستان کے ہیڈ کوارٹرز پر ہونے والے بزدلانہ حملے کا مرکزی ماسٹر مائنڈ اور انچارج تھا جس کی گرفتاری کے لیے فورسز طویل عرصے سے تعاقب کر رہی تھیں۔
اگرچہ اس حملے میں ملوث 15 دہشت گردوں کو پہلے ہی مختلف کارروائیوں میں ہلاک کیا جا چکا تھاتاہم خارجی بشیر مسلسل روپوش رہ کر اپنی دہشت گردانہ سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے تھا۔
سیکیورٹی فورسز نے 14 اور 15 مئی کی درمیانی شب شعبان کے علاقے میں ایک بھرپور کارروائی کی تھی جس میں 33 دہشت گرد مارے گئے تھے جس کے بعد یہ اہم انکشاف ہوا کہ بصیر ہی اس پورے دہشت گرد کیمپ کی کمانڈ کر رہا تھا۔
فورسز نے اس کی تلاش کے لیے گھیرا مزید تنگ کیا اور بالآخر 20 مئی کو اسے ایک فیصلہ کن معرکے میں جہنم واصل کر دیا جبکہ اس کا ایک قریبی ساتھی زندہ گرفتار کر لیا گیا ہے جو اب اہم انکشافات کر رہا ہے۔
خارجی بصیر چمن کے علاقے گلستان کے رہائشی معروف دہشت گرد نور اللہ کا بیٹا تھا اور وہ چمن میں ونگ ہیڈ کوارٹرز پر خودکش حملے، لورالائی میں ایف سی پوسٹ پر حملے سمیت سیکیورٹی فورسز کے خلاف جدید ٹیکنالوجی اور کواڈ کاپٹر حملوں جیسی سنگین کارروائیوں کا کلیدی کردار تھا۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس ہائی پروفائل دہشت گرد کا خاتمہ ریاست کے دشمنوں کے لیے واضح پیغام ہے کہ وہ سیکیورٹی فورسز کی نظروں سے اوجھل نہیں رہ سکتے اور ملک کے امن کو غارت کرنے والے ہر فتنے کو گہری کھائیوں اور دور افتادہ بنجر علاقوں سے ڈھونڈ نکال کر کیفرِ کردار تک پہنچایا جاتا رہے گا۔





