وفاق اور خیبرپختونخوا حکومت کے درمیان گیس کی فراہمی اور گندم کی ترسیل جیسے حساس معاملات پر جاری مذاکرات بالآخر کامیابی سے ہمکنار ہو گئے ہیں۔
وفاق نے خیبرپختونخوا کو درپیش توانائی کے بحران کے حل کے لیے یومیہ پینتیس ایم ایم سی ایف ڈی گیس دینے کی باضابطہ یقین دہانی کرادی ہے۔
اسلام آباد میں ہونے والی اس اہم ملاقات کے بعد گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی اور مشیر خزانہ مزمل اسلم نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف اور ان کی قائم کردہ خصوصی کمیٹی کا شکریہ ادا کیا۔
اس کامیابی کے فوری اثرات عوام تک پہنچانے کے لیے گورنر فیصل کریم کنڈی نے اعلان کیا کہ جمعرات سے صوبے بھر میں سی این جی اسٹیشنز صبح 6 بجے سے شام 6 بجے تک کے لیے کھول دیے جائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر صوبائی حکومت وفاق کے سامنے دلائل سے بات کرے تو تمام دیرینہ مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ گورنر نے مزید بتایا کہ انہوں نے وزیراعظم سے خیبرپختونخوا میں ایپکس کمیٹی کا اجلاس بلانے کی درخواست بھی کی ہے تاکہ سیکورٹی اور دیگر معاملات پر ہم آہنگی پیدا کی جا سکے۔
وزیراعظم نے گندم کی ترسیل کے مسئلے پر بھی فوری ایکشن لیا ہے اور امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ جلد ہی یہ مسئلہ بھی مستقل طور پر حل کر لیا جائے گا۔
مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے ان مذاکرات کو “عوام کی جیت” قرار دیتے ہوئے کہا کہ گندم کی ترسیل کا معاملہ حل کرنے کے لیے وفاق کی جانب سے مثبت یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ ہو سکتا ہے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی بھی اس حوالے سے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے بات کریں گے۔
مزمل اسلم نے واضح کیا کہ گیس کے معاملے پر صوبے کا موقف تسلیم کر لیا گیا ہے جو کہ ایک بڑی کامیابی ہے، تاہم گندم کا مسئلہ ابھی باقی ہے جس پر پیش رفت جاری ہے۔
انہوں نے آئینی حوالے دیتے ہوئے کہا کہ ملک کے اندر کسی بھی شے کی بین الصوبائی ترسیل پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی۔
مشیر خزانہ نے این ایف سی ایوارڈ میں صوبے کے مکمل حصے اور ضم شدہ علاقوں کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے زور دیا کہ خیبرپختونخوا کو اس کا جائز حق ملنا چاہیے۔





