پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) میں سینیٹ ٹکٹوں کی تقسیم کے معاملے پر اختلافات ختم نہ ہو سکے اور پارٹی کے اندرونی اختلافات ایک بار پھر سامنے آ گئے ہیں۔
سابق گورنر خیبرپختونخوا اور پی ٹی آئی احتساب کمیٹی کے رکن شاہ فرمان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر متعدد سوالات اٹھاتے ہوئے پارٹی فیصلوں پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
ورکرزکاخون سوال کرتاہے۔
1۔ جب پارٹی نے عرفان سلیم کوسینیٹ کاٹکٹ دیا تو آخرکس کےکہنےپرسجاد مہمندنےاپنے کاغذاتِ نامزدگی واپس نہیں لیے؟
2۔ کس نے پارٹی پالیسی کے خلاف جا کر سجاد کو کامیاب کروانےکی ذمہ داری لی؟
3- یہ کون سا ٹولہ ہےجو نہ پارٹی ڈسپلن مانتے ہیں نہ عمران خان کا فیصلہ ؟— Shah Farman (@ShahFarman_PTI) May 24, 2026
انہوں نے سوال کیا کہ جب پارٹی نے عرفان سلیم کو سینیٹ کا ٹکٹ دیا تو کس کے کہنے پر سجاد مہمند نے اپنے کاغذاتِ نامزدگی واپس نہیں لیے؟ اور یہ کہ کس نے پارٹی پالیسی کے برعکس جا کر سجاد مہمند کو کامیاب کروانے کی ذمہ داری لی؟
شاہ فرمان نے سوال اٹھایا کہ یہ کون سا گروہ ہے جو نہ پارٹی ڈسپلن کو مانتا ہے اور نہ ہی عمران خان کے فیصلوں کی پابندی کرتا ہے۔
پارٹی کے اندرونی ذرائع کے مطابق سینیٹ ٹکٹوں کی تقسیم کے معاملے پر اختلافات برقرار ہیں، جبکہ قیادت کی جانب سے تاحال اس معاملے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔





