کوئٹہ میں بی ایل اے کے حملے کے پیچھے اسرائیل ملوث ہے،سابق سی آئی اے ریسرچر لاری جانسن کا دعویٰ

سابق سی آئی اے ریسرچر لاری جانسن نے ایک حالیہ گفتگو میں انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں ہونے والے حالیہ دہشت گردانہ حملے محض اتفاق نہیں بلکہ پاکستان اور ایران کے مابین جاری امن عمل کو سبوتاژ کرنے کے لیے اسرائیلی انٹیلیجنس ایجنسی موساد کا ایک واضح اور خفیہ پیغام ہیں۔

لیرک جانسن کے مطابق بلوچ علیحدگی پسند گروپوں کے اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ انٹیلیجنس تعلقات کی ایک طویل تاریخ ہے جو کم و بیش 46 سے 47 سال پر محیط ہے جس کا آغاز 1979 اور 1980 میں تہران میں امریکی یرغمالیوں کو چھڑانے کے ناکام آپریشن کے دوران امریکہ کو انٹیلیجنس فراہم کرنے سے ہوا تھا۔

انہوں نے ماضی کے ایک بڑے اسکینڈل کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ کس طرح بلوچ عسکریت پسندوں کو ایران کے اندر کارروائیوں کے لیے یہ تاثر دے کر بھرتی کیا گیا کہ انہیں امریکی ڈالرز مل رہے ہیں اور انہیں بھرتی کرنے والے امریکی حکام ہیں، لیکن بعد میں انکشاف ہوا کہ وہ اصل میں اسرائیلی موساد کے اثاثے تھے جس پر امریکی حکام نے شدید برہمگی کا اظہار کیا تھا۔ اسرائیل ان عناصر کو پاکستان اور ایران دونوں کے اندر عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے استعمال کرتا آیا ہے۔

سابق سی آئی اے تجزیہ کار نے ماضی میں پاک ایران سرحد پر ہونے والی بمباری کا ایک متبادل رخ پیش کرتے ہوئے واضح کیا کہ بین الاقوامی میڈیا نے اسے پاکستان اور ایران کے درمیان لڑائی کے طور پر پیش کیا تھا، لیکن حقیقت میں وہ دونوں ممالک کا ایک مشترکہ اور مربوط آپریشن تھا جس کے تحت پاکستان نے ایرانی حدود میں اور ایران نے پاکستانی حدود میں موجود عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تاکہ کسی بھی ملک کو اپنے ہی شہریوں کے خلاف کارروائی کا سیاسی نقصان نہ اٹھانا پڑے۔

انہوں نے زور دیا کہ اس وقت جب پاکستان خطے میں امن کے ایک نئے معاہدے کو فروغ دینے اور اس میں ثالث کا متحرک کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے، ٹھیک اسی وقت پاکستانی شہریوں پر حملے کروانا ظاہر کرتا ہے کہ اسرائیل ان عسکریت پسندوں کے ذریعے پاکستان کو واضح پیغام دے رہا ہے اور اب یہ پاکستان پر منحصر ہے کہ وہ اس کا کیا جواب دیتا ہے۔

Scroll to Top