پاکستان کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نے واضح کیا ہے کہ محمد رضوان کو ٹی ٹوئنٹی ٹیم سے باہر کرنے کا فیصلہ ٹیم کے وسیع تر مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا۔
راولپنڈی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مائیک ہیسن نے کہا کہ جب انہوں نے کوچنگ کی ذمہ داریاں سنبھالیں تو اس وقت بھی محمد رضوان ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ کا حصہ نہیں تھے اور نہ ہی وہ ٹیم کی قیادت کر رہے تھے۔
ہیڈ کوچ کے مطابق ویسٹ انڈیز کے خلاف ون ڈے سیریز کے بعد ٹیم مینجمنٹ نے صورتحال کا جائزہ لیا اور یہ محسوس کیا گیا کہ قیادت میں تبدیلی ضروری ہے، کیونکہ رضوان کی کپتانی میں قومی ٹیم مطلوبہ نتائج دینے میں کامیاب نہیں ہو رہی تھی۔
مائیک ہیسن نے کہا کہ ٹیم کی تشکیل کسی ایک کھلاڑی کی انفرادی کارکردگی کو دیکھ کر نہیں بلکہ مجموعی ٹیم مفاد کو سامنے رکھ کر کی جاتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مستقبل کے اہداف کو مدنظر رکھتے ہوئے مختلف آپشنز پر غور کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : دنیا بھر سے آئے تقریباً 18لاکھ عازمین حج منیٰ پہنچ گئے
انہوں نے مزید کہا کہ محمد رضوان کو ڈراپ کرنے کا مقصد دیگر کھلاڑیوں کو بھی واضح پیغام دینا تھا کہ ٹیم میں جگہ مستقل نہیں بلکہ کارکردگی کی بنیاد پر ملتی ہے۔
ہیڈ کوچ کا کہنا تھا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران کھلاڑیوں کے اعتماد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے،
جبکہ آئندہ سال ہونے والے ورلڈ کپ کے پیش نظر ٹیم کمبی نیشن اور نئے کھلاڑیوں کے انتخاب پر بھی کام جاری ہے۔





