گلگت بلتستان انتخابات میں شفافیت کے لیے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کا سپریم اپیلیٹ کورٹ کو خط

 وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل خان آفریدی نے گلگت بلتستان میں آئندہ انتخابات کے حوالے سے پیدا ہونے والی تشویشناک صورتحال پر سپریم اپیلیٹ کورٹ گلگت بلتستان کے چیف جسٹس کو باضابطہ خط ارسال کرتے ہوئے فوری عدالتی مداخلت کی درخواست کی ہے۔

خط کی ایک نقل چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کو بھی ارسال کی گئی ہے تاکہ اس اہم معاملے پر اعلیٰ ترین سطح پر توجہ مبذول کرائی جا سکے۔

خط میں وزیر اعلیٰ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ گلگت بلتستان سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ایک مخصوص سیاسی جماعت کو انتخابی سرگرمیوں، عوامی اجتماعات اور مہم چلانے میں غیر ضروری رکاوٹوں کا سامنا ہے۔

انہوں نے سیاسی کارکنوں کو ہراساں کرنے اور غیر قانونی گرفتاریوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات سے انتخابی عمل کی ساکھ اور شفافیت کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے جو کہ آئین پاکستان کی جانب سے ہر شہری کو دیے گئے آزاد اور منصفانہ انتخابات کے بنیادی حق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

وزیر اعلیٰ نے معزز عدالت سے گزارش کی ہے کہ گلگت بلتستان میں غیر جانبدارانہ انتخابات کے انعقاد کے لیے متعلقہ اداروں کو فوری اور واضح ہدایات جاری کی جائیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ سیاسی کارکنوں کے خلاف ہراسانی اور گرفتاریوں کا سلسلہ فوری روک کر تمام جماعتوں کو بلاامتیاز مہم چلانے کا مکمل حق دیا جائے تاکہ قانون کی حکمرانی اور جمہوری اقدار کا تحفظ ممکن ہو سکے۔

انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ سپریم اپیلیٹ کورٹ اپنے آئینی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے انتخابی عمل پر عوام کے اعتماد کو بحال کرے گی۔

وزیر اعلیٰ کے مطابق عدلیہ کی بروقت مداخلت ہی گلگت بلتستان میں شفاف اور قابل اعتماد انتخابات کے انعقاد سمیت عوام کے جمہوری حق رائے دہی کے تحفظ کو یقینی بنا سکتی ہے۔

Scroll to Top