ہارورڈ سے تربیت یافتہ ماہرینِ کینسر اور صحتِ عامہ نے دنیا بھر کے لوگوں کو صبح کے ناشتے سے متعلق ایک انتہائی خطرناک غلطی پر خبردار کیا ہے جو طویل مدت میں ذیابیطس اور کینسر جیسی مہلک بیماریوں کا سبب بن رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق بہت سی ایسی غذائیں جنہیں عام طور پر صحت بخش سمجھ کر شوق سے کھایا جاتا ہے درحقیقت ریفائنڈ کاربوہائیڈریٹس اور اضافی چینی سے بھرپور ہوتی ہیں۔
ان غذاؤں میں میٹھے سیریلز، پیک شدہ پین کیکس، وافلز، مفنز، گرینولا بارز، میٹھا دہی اور پھلوں کے جوس شامل ہیں جو خون میں شوگر کی سطح کو اچانک بڑھا دیتے ہیں اور پھر یہ سطح اتنی ہی تیزی سے گرتی ہے جس سے انسان کو بہت جلد دوبارہ بھوک محسوس ہونے لگتی ہے۔
تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ بہتر میٹابولک صحت کے لیے ناشتے میں پروٹین، فائبر اور کم پروسیسڈ غذاؤں کو ترجیح دینا بے حد ضروری ہے۔
ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ خون میں شوگر کو متوازن رکھنے اور دیر تک پیٹ بھرے رکھنے کے لیے انڈے، سادہ یونانی دہی، بیریز، دلیہ، خشک میوہ جات اور ہول گرین ٹوسٹ بہترین انتخاب ہیں۔ اس کے ساتھ ہی جوس پینے کے بجائے پورا پھل کھانے اور میٹھے سیریلز کی جگہ جئی استعمال کرنے کی تاکید کی گئی ہے جبکہ بیکن اور ساسیج جیسے پروسیسڈ گوشت کے زیادہ استعمال کو دل کی بیماریوں، کینسر اور قبل از وقت موت کی بڑی وجہ قرار دیا گیا ہے۔
ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ صرف ناشتے کی تبدیلی ہی کافی نہیں بلکہ رات کے کھانے کے بعد دس سے بیس منٹ کی مختصر چہل قدمی بھی شوگر کنٹرول کرنے اور طویل المدتی صحت کو برقرار رکھنے کے لیے جادوئی اثر رکھتی ہے۔





