عیدالاضحیٰ پر سوات میں کتنے سیاح سوات پہنچے ، حیران کن اعداد و شمار سامنے آگئے

عیدالاضحیٰ کی تعطیلات کے دوران وادی سوات میں سیاحوں کی غیر معمولی آمد ریکارڈ کی گئی۔

27 مئی سے 30 مئی 2026 تک 3 لاکھ 33 ہزار 877 سیاح 34 ہزار 693 گاڑیوں کے ذریعے وادی سوات میں داخل ہوئے۔

ترجمان اپر سوات ڈویلپمنٹ اتھارٹی سعید الرحمان کے مطابق ڈسٹرکٹ پولیس سوات کے اعداد و شمار کے تحت اسی عرصے میں 2 لاکھ 14 ہزار 755 سیاح اور 25 ہزار 435 گاڑیاں واپس روانہ ہوئیں۔

انہوں نے کہا کہ اس دوران 62 غیر ملکی سیاح بھی سوات آئے جن کا تعلق برطانیہ، متحدہ عرب امارات، روس، کرغزستان، ناروے، امریکہ، چین، فرانس، پولینڈ، بیلاروس، ملائیشیا اور ایران سے تھا۔

ترجمان کے مطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے عوامی ایجنڈے اور گڈ گورننس روڈ میپ کے تحت مشیر برائے سیاحت و ثقافت، سیکرٹری سیاحت خیبرپختونخوا سعادت حسن اور ڈائریکٹر جنرل اپر سوات ڈویلپمنٹ اتھارٹی شوذب عباس کی نگرانی میں عیدالاضحیٰ کے دوران سیاحوں کو بہترین سہولیات کی فراہمی کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے۔

یہ بھی پڑھیں: عید تعطیلات میں حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں مریضوں کا شدید رش، 12 ہزار سے زائدکیسز رپورٹ

انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ، سوات پولیس، ٹورازم پولیس، ٹریفک پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں کے باہمی تعاون سے ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے، سیاحوں کی رہنمائی اور عوامی خدمات کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا۔

مختلف سیاحتی مقامات پر ٹورازم پولیس کی اضافی نفری تعینات کی گئی جبکہ فرسٹ ایڈ سروسز اور ٹورازم موٹر سائیکل یونٹس کو بھی فعال رکھا گیا۔

سعید الرحمان کے مطابق بابِ سوات، بابِ مٹہ، بحرین، ملم جبہ اور کالام میں قائم ٹورسٹ انفارمیشن ڈیسک اور ٹورسٹ فیسلیٹیشن سینٹرز کے ذریعے 34 ہزار 611 سیاحوں کو معلومات، رہنمائی اور معاونت فراہم کی گئی۔

اس کے علاوہ 3 ہزار 567 گاڑیوں کو مختلف سہولیات مہیا کی گئیں جبکہ 3 ہزار 559 افراد کو ابتدائی طبی امداد اور ہنگامی خدمات فراہم کی گئیں۔

انہوں نے کہا کہ سیاحوں کی آگاہی کے لیے 2 ہزار 500 معلوماتی بروشرز بھی تقسیم کیے گئے جن میں سیاحتی مقامات، سفری راستوں، پارکنگ، رہائش، ٹریفک صورتحال اور حفاظتی تدابیر سے متعلق معلومات شامل تھیں۔

ترجمان اپر سوات ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے مطابق سیاحوں کی ریکارڈ آمد کے باوجود تمام متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر رابطوں، مربوط حکمت عملی اور بروقت انتظامات کے باعث وادی سوات میں ٹریفک کی روانی، سیاحوں کی رہنمائی اور عوامی سہولیات کو کامیابی کے ساتھ برقرار رکھا گیا۔

Scroll to Top