بجٹ 2026 میں عوام کیلئے بڑی خوشخبری، کونسی اشیاء سستی ہوں گی؟ تفصیلات سامنے آگئیں

بجٹ 2026 میں عوام کیلئے بڑی خوشخبری، کونسی اشیاء سستی ہوں گی؟ تفصیلات سامنے آگئیں

آئندہ مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ سے قبل پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان ہونے والے مذاکرات کی اہم تفصیلات سامنے آ گئی ہیں، جن کے مطابق متعدد درآمدی اشیا، گاڑیوں، زرعی آلات اور صنعتی خام مال پر ٹیکسوں اور ڈیوٹیوں میں کمی کا امکان ہے۔

ذرائع کے مطابق حکومت نئے بجٹ میں درآمدی اشیا پر عائد ریگولیٹری ڈیوٹی اور ایڈیشنل کسٹم ڈیوٹی کم کرنے پر غور کر رہی ہے، جبکہ درآمد شدہ گاڑیوں پر بھی ڈیوٹی میں کمی متوقع ہے، جس سے صارفین کو ریلیف مل سکتا ہے۔

اطلاعات کے مطابق برآمدی صنعتوں میں استعمال ہونے والے خام مال پر عائد ٹیرف کم کیے جانے کا امکان ہے، جس سے صنعتی شعبے کی پیداواری لاگت میں کمی آئے گی۔ اسی طرح ٹیلی کام سیکٹر میں فائیو جی ٹیکنالوجی سے متعلق مشینری اور آلات پر بھی ٹیکسوں میں کمی کی تجویز زیر غور ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کی ہدایت پر وزارت صنعت و تجارت نے نیشنل ٹیرف پالیسی کا مسودہ تیار کر لیا ہے، جس کے تحت آئی ایم ایف سے طے شدہ اہداف کے مطابق ٹیرف میں بتدریج کمی کی جائے گی تاکہ مقامی صنعت کو عالمی سطح پر زیادہ مسابقتی بنایا جا سکے۔

بجٹ تجاویز کے مطابق 3 ہزار 149 ٹیرف لائنز پر ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹی میں کمی جبکہ 1900 سے زائد ٹیرف لائنز پر ریگولیٹری ڈیوٹی کم کیے جانے کا امکان ہے۔

زرعی شعبے کے لیے بھی اہم ریلیف متوقع ہے۔ مقامی سطح پر تیار نہ ہونے والے زرعی آلات، مشینری اور ان کے پرزہ جات پر درآمدی ڈیوٹی کم کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس سے کسانوں کو جدید زرعی ٹیکنالوجی تک نسبتاً کم قیمت پر رسائی مل سکے گی۔

ذرائع کے مطابق 15 فیصد کسٹم ڈیوٹی والے سلیب کی 518 ٹیرف لائنز پر باقی ماندہ 2 فیصد ایڈیشنل کسٹم ڈیوٹی ختم کی جا سکتی ہے، جبکہ 20 فیصد ڈیوٹی والے سلیب کی 2 ہزار 166 لائنز پر ایڈیشنل کسٹم ڈیوٹی 4 فیصد سے کم کرکے 2 فیصد کیے جانے کا امکان ہے۔ اسی طرح 20 فیصد سے زائد کسٹم ڈیوٹی والی 468 ٹیرف لائنز پر اضافی ڈیوٹی 6 فیصد سے کم کرکے 4 فیصد کی جا سکتی ہے۔

اس کے علاوہ الیکٹرک گاڑیوں اور الیکٹرک بائیکس کی تیاری کے پلانٹس میں استعمال ہونے والی مشینری اور آلات پر بھی اضافی کسٹم ڈیوٹی میں کمی متوقع ہے، جس سے ملک میں ماحول دوست ٹرانسپورٹ کے فروغ میں مدد مل سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ تجاویز بجٹ کا حصہ بن گئیں تو متعدد شعبوں میں لاگت کم ہونے اور صارفین کو ریلیف ملنے کے امکانات روشن ہو جائیں گے۔

Scroll to Top