آخر کبوتر اپنے گھر کا راستہ کیسے پہچانتے ہیں؟ جانیں

برلن: سائنس دان طویل عرصے سے اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ہومنگ کبوتر سینکڑوں کلومیٹر دور سے بھی اپنے گھروں کا راستہ کیسے تلاش کر لیتے ہیں۔

اب جرمنی میں کی گئی ایک نئی سائنسی تحقیق نے اس حوالے سے ایک دلچسپ اور اہم انکشاف کیا ہے، جس کے مطابق کبوتروں کی غیر معمولی سمت شناسی کی صلاحیت ممکنہ طور پر ان کے جگر میں موجود مخصوص خلیات سے منسلک ہو سکتی ہے۔

یہ تحقیق جرمنی کی یونیورسٹی آف بون اور میکس پلانک انسٹیٹیوٹ آف اینیمل بیہیویئر کے ماہرین حیاتیات نے انجام دی، جس میں کبوتروں کے مقناطیسی میدان کو محسوس کرنے والے ممکنہ نظام کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ ہومنگ کبوتر (Columba livia) دنیا کے ان چند پرندوں میں شامل ہیں جو طویل فاصلے طے کرنے کے باوجود اپنے گھروں تک درست راستہ اختیار کرتے ہوئے واپس پہنچنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ پرندے سفر کے دوران مختلف قدرتی اشاروں اور ماحولیاتی عوامل سے رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔

اس سے قبل سائنس دان کبوتروں کی چونچ، آنکھوں اور دماغ میں ایسے حیاتیاتی نظاموں کی نشاندہی کر چکے ہیں جو انہیں سمت کے تعین میں مدد فراہم کرتے ہیں، تاہم نئی تحقیق میں پہلی بار جگر میں موجود مخصوص مدافعتی خلیات، جنہیں سپر پیرا میگنیٹک میکروفیجز کہا جاتا ہے، پر خصوصی توجہ دی گئی۔

محققین کے مطابق یہ خلیات اپنے اندر آئرن یا لوہے کے ذرات جمع کرتے ہیں، جس کے باعث ان میں زمین کے مقناطیسی میدان کو محسوس کرنے کی صلاحیت پیدا ہو سکتی ہے۔ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ یہی خصوصیت کبوتروں کو سفر کے دوران سمت کا درست اندازہ لگانے میں مدد دیتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : پاکستان کی آٹو انڈسٹری میں تاریخی تبدیلی، گاڑی خریدنے والوں کے لیے بڑی خبر

تحقیق کے دوران ماہرین نے ان خلیات کی مقدار کم کر کے ان کے اثرات کا جائزہ لیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ بادلوں والے موسم میں پرواز کرنے والے کبوتر اپنی معمول کی سمت برقرار رکھنے میں مشکلات کا شکار ہو گئے اور درست راستہ تلاش نہیں کر سکے۔ اس کے برعکس صاف موسم میں یہی کبوتر سورج کی روشنی اور دیگر بصری نشانات کی مدد سے منزل کی جانب درست سفر جاری رکھنے میں کامیاب رہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ کبوتر سمت شناسی کے لیے کسی ایک نظام پر انحصار نہیں کرتے بلکہ مختلف حسی نظام بیک وقت کام کرتے ہیں۔ ان میں زمین کے مقناطیسی میدان کا ادراک بھی شامل ہے، جس میں ممکنہ طور پر جگر میں موجود مخصوص خلیات اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

محققین کے مطابق اس تحقیق سے نہ صرف پرندوں کی سمت شناسی کے پیچیدہ نظام کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملے گی بلکہ مستقبل میں حیاتیاتی نیویگیشن اور مقناطیسی احساس سے متعلق مزید سائنسی تحقیقات کے لیے بھی نئی راہیں کھل سکتی ہیں۔

Scroll to Top