خیبرپختونخوا پی ٹی آئی اجلاس: 25 سے 30 اراکین غائب، اصل وجہ کیا ہے؟

شاہد جان
پشاور: پاکستان تحریک انصاف خیبرپختونخوا کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں متعدد ارکان کی عدم شرکت اور حکومت و اراکین کے درمیان مختلف امور پر اختلافات سامنے آنے کی اطلاعات ملی ہیں۔

ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کے پارلیمانی پارٹی اجلاس میں 25 سے 30 اراکین غیر حاضر رہے۔ غیر شریک ہونے والوں میں علی امین گنڈاپور، قاسم علی شاہ، شیر علی آفریدی، فضل الٰہی، نیک محمد، سجاد بارکوال اور انورزیب خان سمیت دیگر اراکین شامل تھے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں عدم شرکت کرنے والے بیشتر اراکین کابینہ کی تشکیل اور دیگر انتظامی معاملات پر وزیراعلیٰ سے ناراض ہیں۔ تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق کچھ اراکین ملک سے باہر ہونے کی وجہ سے اجلاس میں شریک نہیں ہو سکے۔

یہ بھی پڑھیں : پاکستان کی آٹو انڈسٹری میں تاریخی تبدیلی، گاڑی خریدنے والوں کے لیے بڑی خبر

اجلاس کے دوران موجود متعدد اراکین نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے سامنے اپنے تحفظات کھل کر پیش کیے۔ اراکین نے شکایت کی کہ وزیراعلیٰ بننے کے بعد ان تک رسائی مشکل ہو گئی ہے۔

اراکین کے مطابق نہ وزیراعلیٰ خود کال سنتے ہیں اور نہ ہی ان کے پرسنل سیکرٹری سے رابطہ آسان ہے۔ اس پر وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایم پی ایز کے لیے ایک خصوصی نمبر مختص کیا ہے اور آئندہ رابطے میں کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ وہ تمام اراکین کے ساتھ نیا رابطہ نمبر شیئر کر رہے ہیں تاکہ کسی بھی وقت رابطہ ممکن ہو سکے۔

ذرائع کے مطابق اراکین نے کابینہ کی تشکیل پر بھی تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ بعض اضلاع سے دو یا تین اراکین کو کابینہ میں شامل کیا گیا ہے جبکہ کچھ کو مکمل طور پر نظرانداز کیا گیا ہے۔

اجلاس میں اراکین نے یہ مؤقف بھی اپنایا کہ تحریک انصاف انصاف کی جماعت ہے اور اس میں ہر سطح پر انصاف ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی “قبضہ گروپ” کا تسلط قبول نہیں کیا جا سکتا۔

فنڈز کی غیر منصفانہ تقسیم پر بھی اراکین نے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق بعض حلقوں کو زیادہ سہولتیں دی جا رہی ہیں جبکہ دیگر کو نظرانداز کیا جا رہا ہے، جس سے ترقیاتی عمل متاثر ہو رہا ہے۔

اراکین نے شکایت کی کہ انہیں ترقیاتی فنڈز نہیں مل رہے، جس کی وجہ سے حلقوں میں عوامی دباؤ بڑھ رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : آخر کبوتر اپنے گھر کا راستہ کیسے پہچانتے ہیں؟ جانیں

ملاکنڈ ڈویژن کے اراکین نے اجلاس میں مؤقف اختیار کیا کہ یہ خطہ صوبے کا سب سے بڑا ڈویژن ہونے کے باوجود موجودہ بجٹ میں نظرانداز کیا گیا ہے۔ ایک رکن نے یہ بھی یاد دلایا کہ وعدے کے باوجود پنجکوڑہ کو علیحدہ ڈویژن کا درجہ ابھی تک نہیں دیا جا سکا۔

اس پر وزیراعلیٰ نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ سوات اور دیر کے لیے موٹروے منصوبہ جاری ہے، جو خطے کی ترقی کے لیے اہم ثابت ہوگا۔

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اراکین کو یقین دہانی کرائی کہ ان کے تمام تحفظات دور کیے جائیں گے اور فنڈز و ترقیاتی منصوبوں کی تقسیم میں کسی قسم کا امتیاز نہیں برتا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ عمران خان کے اعتماد پر پورا اترنے کی کوشش کر رہے ہیں اور ان کی حکومت تمام اراکین کو یکساں اہمیت دیتی ہے۔

اراکین نے بھی وزیراعلیٰ پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی قیادت کی ہدایت کے مطابق اتحاد برقرار رکھا جائے گا۔

Scroll to Top