تہران: ایران نے جنوبی پارس گیس فیلڈ میں سمندر کے اندر قائم تین پیداواری پلیٹ فارمز سے گیس کی پیداوار دوبارہ بحال کر دی ہے، جسے توانائی کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
پارس آئل اینڈ گیس کمپنی کے سربراہ نے سرکاری ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ مذکورہ پلیٹ فارمز پر مارچ میں اسرائیل کی جانب سے حملے کیے گئے تھے، تاہم یہ تنصیبات کسی بڑے نقصان سے محفوظ رہی تھیں۔
انہوں نے بتایا کہ ان پلیٹ فارمز سے حاصل ہونے والی گیس کو عارضی طور پر خطے میں موجود دیگر پراسیسنگ مراکز کی جانب منتقل کیا جا رہا ہے، جبکہ متاثرہ تنصیبات کی بحالی اور مرمت کا کام بھی جاری ہے۔
واضح رہے کہ مارچ کے وسط میں اسرائیلی فوج نے جنوبی پارس گیس فیلڈ کو نشانہ بنایا تھا، جو دنیا کے سب سے بڑے قدرتی گیس ذخائر میں شمار کیا جاتا ہے اور ایران کی توانائی ضروریات میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
اس حملے کے بعد ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے خطے کے مختلف حصوں میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو میزائلوں اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا تھا، جس کے نتیجے میں خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ دیکھنے میں آیا۔
یہ بھی پڑھیں : منگلا ڈیم میں پابندی کے باوجود گہرے پانی میں نہانے کا سلسلہ جاری
ماہرین کے مطابق جنوبی پارس گیس فیلڈ سے پیداوار کی بحالی ایران کے توانائی شعبے کے لیے اہم پیش رفت ہے، جبکہ اس سے ملکی گیس سپلائی اور برآمدی صلاحیت کو برقرار رکھنے میں بھی مدد ملے گی۔
دوسری جانب خطے میں جاری کشیدگی کے باعث توانائی تنصیبات کی سیکیورٹی اور استحکام سے متعلق خدشات بدستور برقرار ہیں۔





