خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے میں تقریباً 20 سال بعد پرائس مجسٹریٹ نظام کی بحالی کے لیے تیاریاں مکمل کر لی ہیں اور اس حوالے سے تجاویز وفاقی حکومت کو ارسال کر دی گئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے مہنگائی پر قابو پانے، بلیک مارکیٹنگ کی روک تھام اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کی مؤثر نگرانی کے لیے مجسٹریٹی نظام بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی مرحلے میں پشاور میں پانچ پرائس مجسٹریٹس تعینات کیے جائیں گے، جبکہ دیگر اضلاع میں بھی مجسٹریٹس کی تعیناتی عمل میں لائی جائے گی۔ منصوبے کے تحت ایبٹ آباد میں تین، چارسدہ میں دو، مردان میں دو اور نوشہرہ میں دو پرائس مجسٹریٹس تعینات کیے جائیں گے۔
پرائس مجسٹریٹ نظام تقریباً دو دہائیاں قبل عدالتی احکامات کی روشنی میں ختم کر دیا گیا تھا، تاہم بڑھتی ہوئی مہنگائی اور ناجائز منافع خوری کے پیش نظر اسے دوبارہ فعال بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ہوم ڈیپارٹمنٹ ضابطہ فوجداری کے متعلقہ قوانین کے تحت مجسٹریٹس کی تعیناتی کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔
نئے نظام کے تحت پرائس مجسٹریٹس کو اشیائے خورونوش اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتوں کی نگرانی، بلیک مارکیٹنگ، ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف کارروائی کے اختیارات حاصل ہوں گے۔ اس کے علاوہ تجاوزات قائم کرنے والے افراد کے خلاف بھی قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکے گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ پرائس مجسٹریٹ نظام کی بحالی سے نہ صرف مہنگائی کو کنٹرول کرنے میں مدد ملے گی بلکہ عوام کو ریلیف فراہم کرنے اور مارکیٹوں میں سرکاری نرخوں پر عملدرآمد یقینی بنانے میں بھی اہم کردار ادا ہوگا۔





