خیبرپختونخوا میں غیر قانونی افغان مہاجرین اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پشاور سمیت صوبے بھر میں افغان مہاجرین کو کرائے پر مکانات، دکانیں اور دیگر تجارتی مقامات فراہم کرنے والے تقریباً تین لاکھ افراد کی نشاندہی کر لی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ نشاندہی کیے گئے افراد میں ایک لاکھ سے زائد پراپرٹی ڈیلرز جبکہ تقریباً دو لاکھ جائیداد مالکان شامل ہیں۔ حکومت نے غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف سخت اقدامات کا فیصلہ کیا ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق افغان شہریوں کی بے نامی جائیدادوں کی ضبطی کے حوالے سے صوبے کے تمام ڈپٹی کمشنرز کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ ایسے افراد یا جائیدادوں کی نشاندہی کرنے والوں کے لیے خصوصی انعامی اسکیم بھی متعارف کرائی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق افغان شہریوں کے زیر استعمال مکانات، کاروباری مراکز اور دیگر اثاثوں کے بارے میں معلومات فراہم کرنے والوں کو مناسب انعامات دیے جائیں گے۔ پشاور کے مختلف علاقوں سمیت صوبے بھر میں افغان مہاجرین کو رہائشی اور تجارتی مقامات کرائے پر دینے والوں کے خلاف کارروائی کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔
نمک منڈی، خیبر بازار، پیپل منڈی، بورڈ بازار، ناصر باغ روڈ، حیات آباد، رنگ روڈ، خوشحال بازار اور فقیر آباد سمیت مختلف تجارتی مراکز میں کاروبار کرنے والے غیر قانونی افغان شہریوں کا ریکارڈ مرتب کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کی منظوری کے بعد وفاقی حساس ادارے اور سیکیورٹی فورسز مشترکہ طور پر آپریشن کریں گے، جبکہ صوبائی حکومت نے بھی اس سلسلے میں مکمل تعاون اور رضامندی کا اظہار کیا ہے۔
کیمپ خالی نہ کرنے والے افغان مہاجرین کے خلاف بھی سخت کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق غیر قانونی مہاجرین کے خلاف کارروائی کے لیے جامع ایکشن پلان تیار کرکے تمام ڈپٹی کمشنرز کو ارسال کر دیا گیا ہے، جس کے تحت مختلف اضلاع میں مرحلہ وار آپریشن کا آغاز کیا جائے گا۔





