خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کے اندرونی اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیںجہاں پارٹی کے 28 ناراض اراکینِ اسمبلی نے صوبائی حکومت اور پارٹی پالیسیوں پر کھل کر تحفظات کا اظہار کر دیا ہے۔
آج پشاورمیں ناراض اراکینِ صوبائی اسمبلی کا چار گھنٹے طویل مشاورتی اجلاس منعقد ہوا۔
ذرائع کے مطابق اس اہم بیٹھک کے اختتام پر ناراض ارکان نے صوبائی سطح پر تحفظات دور کرنے کے لیے اسد قیصر کی سربراہی میں قائم کی گئی چھ رکنی کمیٹی سے ملاقات کرنے سے صاف انکار کر دیا اور واضح کیا کہ وہ اپنے معاملات پر صرف اور صرف چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان سے ہی بات کریں گے۔
اس فیصلے کے بعد ناراض اراکین کی جانب سے بیرسٹر گوہر کو ایک تفصیلی اور باضابطہ خط بھی ارسال کر دیا گیا ہے جس میں صوبائی حکومت اور پارٹی کی موجودہ پالیسیوں پر سنگین سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
اراکینِ اسمبلی کی جانب سے چیئرمین بیرسٹر گوہر کو لکھے گئے خط میں پارٹی امور، عمران خان کی رہائی کی تحریک اور خیبر پختونخوا حکومت کے طرزِ حکمرانی کے حوالے سے اہم نکات اور تحفظات سامنے لائے گئے ہیں۔
ارکان نے اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا کہ بعض میڈیا اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر انہیں مختلف گروپوں یا شخصیات سے منسوب کر کے غلط تاثر دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تمام اٹھائیس اراکینِ اسمبلی کسی گروہ یا دھڑے کے ایجنڈے پر کام نہیں کر رہےبلکہ وہ صرف اور صرف بانی چیئرمین عمران خان کے وژن اور پارٹی منشور کے پابند ہیں۔
اراکین نے بانی چیئرمین کی مسلسل قید اور ان پر عائد پابندیوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اب تک کی احتجاجی سرگرمیاں مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہی ہیںجس سے کارکنان میں مایوسی پھیل رہی ہے۔
خط میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ کارکنان میں یہ تاثر پیدا ہو رہا ہے کہ رہائی کی تحریک اپنی بنیادی سمت سے ہٹ کر محض صحت اور علاج معالجے کے معاملات تک محدود ہو گئی ہے، اور اگر اس کا بروقت تدارک نہ کیا گیا تو پارٹی کو بڑا سیاسی نقصان ہو سکتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ رسمی بیانات اور علامتی احتجاج کے بجائے ایک جامع, منظم اور نتیجہ خیز حکمتِ عملی بنائی جائے۔
خط میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ عمران خان کے ساتھ ساتھ جیلوں میں بند سینکڑوں دیگر پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کی قانونی معاونت اور ان کے خاندانوں کی فلاح و بہبود کے لیے کوئی منظم لائحہ عمل موجود نہیں ہےاس لیے عدالتوں میں مقدمات کی پیروی کے لیے ایک مربوط اور فعال قانونی ٹیم تشکیل دی جائے۔
صوبائی حکومت پر براہِ راست تنقید کرتے ہوئے خط میں کہا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت ہونے کے باوجود عمران خان کے وژن اور گڈ گورننس پر عمل نہیں ہو رہا۔
ارکان نے سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومتی معاملات میں غیر متعلقہ افراد کی مداخلت بڑھ چکی ہے، میرٹ سے انحراف کیا جا رہا ہے اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم ہو رہی ہے۔ اس کے علاوہ حلقوں کے ترقیاتی فنڈز اور فیصلوں میں منتخب اراکینِ صوبائی اسمبلی سے کوئی مشاورت نہیں کی جا رہی اور ان کے اختیارات کو بائی پاس کیا جا رہا ہے۔
خط کے آخر میں ناراض ارکانِ اسمبلی نے پارٹی قیادت سے پُرزور مطالبہ کیا ہے کہ حکومت میں منتخب نمائندوں کی مشاورت کو یقینی بنایا جائے، غیر متعلقہ عناصر کا سدباب ہو، اور عمران خان کی رہائی سمیت سیاسی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے فوری طور پر ایک قابلِ عمل اور فیصلہ کن حکمتِ عملی مرتب کی جائے۔





