تھکن کی وہ وجہ جو 90 فیصد لوگ نظر انداز کر دیتے ہیں

ایک نئی طبی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مسلسل تھکاوٹ اور نقاہت کی ایک بڑی وجہ جسم میں وٹامن بی 12 اور فولیٹ (وٹامن بی 9) کی کمی ہو سکتی ہے۔

تحقیق کے مطابق روزمرہ زندگی میں بازار، دفتر یا سفر کے دوران اکثر افراد میں تھکن کی کیفیت دیکھی جاتی ہے، جسے عام طور پر مصروف طرزِ زندگی، ذہنی دباؤ یا نیند کی کمی سے جوڑا جاتا ہے، تاہم بعض صورتوں میں اس کی بنیادی وجہ غذائی کمی بھی ہو سکتی ہے۔

یہ بات جاپان کی اوساکا میٹروپولیٹن یونیورسٹی میں کی جانے والی تحقیق میں سامنے آئی، جس میں بتایا گیا کہ وٹامن بی 12 اور فولیٹ کی کمی جسم میں ایک اہم جزو homocysteine کی سطح کو بڑھا دیتی ہے، جو تھکاوٹ اور جسمانی کمزوری سے براہ راست منسلک ہے۔

محققین کے مطابق یہ وٹامنز خون میں homocysteine کو متوازن رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، جبکہ ان کی کمی سے اس کی سطح غیر معمولی طور پر بڑھ جاتی ہے۔

تحقیق میں 600 صحت مند افراد کو شامل کیا گیا، جن کے خون میں homocysteine، فولیٹ اور وٹامن بی 12 کی سطحوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس کے بعد ان افراد میں تھکاوٹ کی علامات کا بھی تجزیہ کیا گیا۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ جن افراد میں وٹامن بی 12 اور فولیٹ کی کمی پائی گئی، ان میں homocysteine کی سطح زیادہ ریکارڈ کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں : بھارت اگر ’آپریشن سندور 2‘ چاہتا ہے تو شوق پورا کر لے، افواجِ پاکستان تیار ہیں،خواجہ آصف

مزید تجزیے میں یہ بات سامنے آئی کہ اس جز کی بلند سطح رکھنے والے افراد زیادہ جسمانی تھکن اور نقاہت کا شکار رہتے ہیں اور ان میں کام کرنے کی صلاحیت بھی متاثر ہوتی ہے۔

محققین نے عمر، نیند کے دورانیے، کام کے دباؤ اور غذائی عادات جیسے دیگر عوامل کو بھی تجزیے میں شامل کیا، تاہم وٹامنز اور تھکاوٹ کے درمیان واضح تعلق سامنے آیا۔

محققین کا کہنا ہے کہ یہ اپنی نوعیت کی پہلی تحقیق ہے جس میں وٹامن بی 12، فولیٹ اور جسمانی تھکاوٹ کے درمیان براہ راست تعلق کو تفصیل سے واضح کیا گیا ہے۔

یہ تحقیق جرنل “نیوٹریشنز” میں شائع ہوئی ہے۔

Scroll to Top