اسلام آباد: ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے پاکستانی پی ایچ ڈی اسکالرز کے لیے ایک اہم بین الاقوامی ریسرچ پروگرام کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت منتخب محققین کو آسٹریا کے عالمی سطح پر تسلیم شدہ تعلیمی اور تحقیقی اداروں میں اپنی تحقیق مکمل کرنے کا موقع فراہم کیا جائے گا۔
ایچ ای سی کے مطابق اس اسکالرشپ پروگرام میں سائنس، طب، انجینیئرنگ، فزکس، کیمسٹری، کمپیوٹر انجینیئرنگ سمیت تمام متعلقہ شعبوں کے پی ایچ ڈی اسکالرز درخواست دینے کے اہل ہوں گے۔
پروگرام کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ منتخب ہونے والے امیدواروں کو آسٹریا کے اداروں میں اپنے تحقیقی کام کے ابتدائی 6 ماہ کے دوران مکمل مالی معاونت فراہم کی جائے گی، جس سے وہ مالی دباؤ سے آزاد ہو کر اپنی تحقیق بین الاقوامی معیار کے مطابق جاری رکھ سکیں گے۔
یہ بھی پڑھیں : ب فارم سے متعلق اہم خبر، نادرا کا نیا سسٹم متعارف
ایچ ای سی نے واضح کیا ہے کہ اس اسکالرشپ کے لیے درخواستیں جمع کرانے کی آخری تاریخ 7 جولائی مقرر کی گئی ہے، اور امیدواروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی آخری وقت کی دشواری سے بچنے کے لیے مقررہ تاریخ سے قبل اپنی درخواستیں مکمل کر لیں۔
حکام کے مطابق یہ اقدام پاکستان اور آسٹریا کے درمیان تعلیمی اور تحقیقی تعاون کو مزید مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوگا اور پاکستانی محققین کو عالمی سطح پر اپنی صلاحیتیں اجاگر کرنے کا موقع فراہم کرے گا۔
ایچ ای سی نے بتایا کہ ادارہ گزشتہ دو دہائیوں سے پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے اور بین الاقوامی جامعات کے ساتھ روابط کو فروغ دینے کے لیے سرگرم عمل ہے۔
پاکستان اور آسٹریا کے تعلیمی تعلقات کو پہلے ہی مضبوط قرار دیا جاتا ہے، جس کی نمایاں مثال ہری پور میں قائم پاک آسٹریا فخہوشولے انسٹی ٹیوٹ ہے، جہاں آسٹریائی تعاون سے جدید تکنیکی تعلیم فراہم کی جا رہی ہے۔
اس سے قبل بھی ایچ ای سی کی جانب سے مختلف ممالک کے لیے شارٹ ٹرم ریسرچ گرانٹس فراہم کی جاتی رہی ہیں تاکہ وہ محققین جو پاکستان میں جدید لیبارٹریز یا وسائل کی کمی کا سامنا کرتے ہیں، وہ بیرون ملک تحقیق کے مواقع سے فائدہ اٹھا سکیں۔
یہ بھی پڑھیں : تھکن کی وہ وجہ جو 90 فیصد لوگ نظر انداز کر دیتے ہیں
ماہرین کے مطابق آسٹریا کے تحقیقی ادارے انجینیئرنگ اور نیچرل سائنسز میں عالمی سطح پر ممتاز حیثیت رکھتے ہیں، اور وہاں تحقیق کے مواقع پاکستانی اسکالرز کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔
ایچ ای سی نے امید ظاہر کی ہے کہ یہ پروگرام “برین ڈرین” کے بجائے “برین گین” کا باعث بنے گا، کیونکہ اسکالرز بیرون ملک جدید تجربہ حاصل کرنے کے بعد وطن واپس آ کر پاکستان کے ریسرچ کلچر کو مزید مضبوط کریں گے۔
محققین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 7 جولائی کی آخری تاریخ کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے ریسرچ پروپوزل کو متعلقہ آسٹریائی پروفیسرز کی ضروریات کے مطابق تیار کریں۔





