صوبے میں 12 سال سے آپ کی حکومت ہے، آپ لوگوں نے کیا کیا؟ چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ کا خیبرپختونخوا کے وزراء سے استفسار پشاور ہائیکورٹ میں صوبائی وزیر مینا خان آفریدی کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں شامل کرنے کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔ سماعت کے دوران صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم، صوبائی وزیر مینا خان آفریدی، مشیرِ داخلہ اور دیگر اعلیٰ حکام عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔ چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے صوبائی وزراء کو مخاطب کرتے ہوئے سوال کیا کہ صوبے میں 12 سال سے آپ کی حکومت ہے، آپ لوگوں نے کیا کیا؟ انہوں نے کہا کہ 12 ایسے افراد کے نام بتائیں جنہیں آپ نے اب تک برطرف کیا ہو۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ صوبے کے جنوبی اضلاع کے لوگ بے امنی کی آگ میں جل رہے ہیں، لیکن 6 ماہ گزرنے کے باوجود آپ لوگوں نے کرمنل جسٹس سسٹم سے متعلق عدالتی فیصلے پر کوئی عمل درآمد نہیں کیا۔ چیف جسٹس نے ماضی کے ریلیف کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگوں کو ایک ہی دن میں ہم نے 246 کیسز میں ضمانتیں دیں، علی امین گنڈاپور بطور وزیر اعلیٰ آئے تو عدالتی وقت ختم ہونے کے باوجود انہیں ضمانت دی گئی اور جب سہیل آفریدی سے حلف نہیں لیا جا رہا تھا تو انہوں نے بھی عدالت سے رجوع کیا اور ہم نے انہیں ریلیف فراہم کیا۔ چیف جسٹس نے پراسیکیوشن کے نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آپ کا ایک ایک پراسیکیوٹر 12، 12 سال سے ایک ہی ضلع میں تعینات ہے جبکہ میں نے خود عدالتوں میں صوبے بھر میں تبادلے کیے ہیں، اگر آپ ہمیں سپورٹ نہیں کر سکتے تو کم از کم ہمارے راستے میں رکاوٹ نہ ڈالیں۔ صوبے میں 12 سال سے آپ کی حکومت ہے، آپ لوگوں نے کیا کیا؟ چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ کا خیبرپختونخوا کے وزراء سے استفسار

صوبے میں 12 سال سے آپ کی حکومت ہے، آپ لوگوں نے کیا کیا؟ چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ کا خیبرپختونخوا کے وزراء سے استفسار

پشاور ہائیکورٹ میں صوبائی وزیر مینا خان آفریدی کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں شامل کرنے کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔

سماعت کے دوران صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم، صوبائی وزیر مینا خان آفریدی، مشیرِ داخلہ اور دیگر اعلیٰ حکام عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے دوران سماعت صوبائی وزراء کو مخاطب کرتے ہوئے سوال کیا کہ صوبے میں 12 سال سے آپ کی حکومت ہے، آپ لوگوں نے کیا کیا؟ انہوں نے کہا کہ 12 ایسے افراد کے نام بتائیں جنہیں آپ نے اب تک برطرف کیا ہو۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ صوبے کے جنوبی اضلاع کے لوگ بے امنی کی آگ میں جل رہے ہیں، لیکن 6 ماہ گزرنے کے باوجود آپ لوگوں نے کرمنل جسٹس سسٹم سے متعلق عدالتی فیصلے پر کوئی عمل درآمد نہیں کیا۔

چیف جسٹس نے ماضی کے ریلیف کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگوں کو ایک ہی دن میں ہم نے 246 کیسز میں ضمانتیں دیں، علی امین گنڈاپور بطور وزیر اعلیٰ آئے تو عدالتی وقت ختم ہونے کے باوجود انہیں ضمانت دی گئی اور جب سہیل آفریدی سے حلف نہیں لیا جا رہا تھا تو انہوں نے بھی عدالت سے رجوع کیا اور ہم نے انہیں ریلیف فراہم کیا۔

چیف جسٹس نے پراسیکیوشن کے نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آپ کا ایک ایک پراسیکیوٹر 12، 12 سال سے ایک ہی ضلع میں تعینات ہے جبکہ میں نے خود عدالتوں میں صوبے بھر میں تبادلے کیے ہیں، اگر آپ ہمیں سپورٹ نہیں کر سکتے تو کم از کم ہمارے راستے میں رکاوٹ نہ ڈالیں۔

اس موقع پر صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم نے عدالت کو یقین دہانی کرواتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ صوبائی حکومت لارجر بینچ کے تمام احکامات پر مکمل عمل درآمد کر رہی ہے۔

Scroll to Top