اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر اینڈریو ڈی ہیوبرمین نے انکشاف کیا ہے کہ رات دیر تک موبائل فون استعمال کرنے کی عادت انسان کو ڈپریشن جیسی خطرناک بیماری میں مبتلا کر سکتی ہے۔
انسٹاگرام پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں نیورو بائیولوجی کے ماہر پروفیسر اینڈریو کا کہنا تھا کہ رات 11 سے صبح 4 بجے کے درمیان موبائل یا لیپ ٹاپ کا استعمال انسانی دماغ کے لیے شدید نقصان دہ ہے۔
انہوں نے سائنسی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ اسکرین سے نکلنے والی تیز روشنی جب آنکھوں میں پڑتی ہے، تو یہ دماغ کے ایک خاص حصے ہیبین نُولا (Habenula) میں ایسا سرکٹ فعال کر دیتی ہے جو ڈوپامین (خوشی کا احساس پیدا کرنے والا کیمیکل) کی مقدار کو کم اور مایوسی کو بڑھا دیتا ہے۔
دوسری جانب، 91 ہزار افراد پر کی جانے والی ایک اور تحقیق بھی اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ رات گئے تک سوشل میڈیا کا استعمال کرنے والے مرد و خواتین میں ڈپریشن، بائی پولر ڈِس آرڈر اور نیوروٹیسز جیسے سنگین ذہنی مسائل کا خطرہ نمایاں طور پر بڑھ جاتا ہے۔
آج کے دور میں 24 گھنٹے انٹرنیٹ کی سہولت نے نئی نسل کو دن اور رات کی تفریق سے بے نیاز کر کے موبائل کا عادی بنا دیا ہے، لیکن ماہرین کی یہ حالیہ ریسرچ واضح کرتی ہے کہ رات دیر تک اسکرین مانیٹرنگ کی یہ لت ذہنی صحت کے لیے کس قدر تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔





