بھاری فیس ڈاکٹر بننے کی راہ میں بڑی رکاوٹ، ملک بھر میں 743 میڈیکل و ڈینٹل نشستیں خالی رہ گئیں

ملک بھر میں میڈیکل اور ڈینٹل تعلیم کی بڑھتی ہوئی لاگت نے اعلیٰ طبی تعلیم کے شعبے میں ایک نیا بحران پیدا کر دیا ہے۔

تعلیمی سال 2024-25 کے دوران تمام تر کوششوں کے باوجود 743 میڈیکل اور ڈینٹل نشستیں خالی رہ گئیں جبکہ میرٹ میں نرمی اور داخلوں کی مدت میں 45 روز کی توسیع بھی طلبہ کو ان نشستوں کی جانب راغب نہ کر سکی۔

دستیاب اعداد و شمار کے مطابق ملک کے 187 میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں مجموعی طور پر 22 ہزار 300 سے زائد نشستیں موجود تھیں، تاہم 608 بی ڈی ایس اور 135 ایم بی بی ایس نشستوں پر داخلے نہ ہو سکے۔

صوبائی سطح پر پنجاب میں سب سے زیادہ 381 نشستیں خالی رہیں، جبکہ سندھ میں 295، اسلام آباد میں 50 اور خیبرپختونخوا میں 17 نشستوں پر کوئی امیدوار داخلہ نہ لے سکا۔

داخلوں کو یقینی بنانے کے لیے متعلقہ حکام نے ایم بی بی ایس کے لیے کم از کم میرٹ 55 فیصد سے کم کرکے 52 فیصد اور بی ڈی ایس کے لیے 50 فیصد سے کم کرکے 47 فیصد مقرر کیا۔

 اس کے علاوہ داخلوں کی مدت میں 45 روز کی توسیع بھی کی گئی، تاہم ان اقدامات کے باوجود مطلوبہ تعداد میں طلبہ داخلہ لینے پر آمادہ نہ ہو سکے۔

یہ بھی پڑھیں: ینگ ڈاکٹرز کے الزامات پر ایم ٹی آئی حیات آباد کا دوٹوک مؤقف سامنے آگیا

ذرائع کے مطابق نجی میڈیکل کالجوں کی بلند فیسیں، بڑھتے تعلیمی اخراجات اور پیشہ ورانہ تعلیم کی مہنگی لاگت طلبہ اور والدین کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ بن چکی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ایک لاکھ 40 ہزار سے زائد رجسٹرڈ امیدواروں میں سے تقریباً 90 ہزار طلبہ ایم ڈی کیٹ امتحان میں کامیاب ہونے کے باوجود میڈیکل کالجوں میں داخلہ لینے سے گریزاں رہے۔

دوسری جانب طبی تعلیم کے شعبے میں اساتذہ کی کمی کا مسئلہ بھی برقرار ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں 26 ہزار 18 تدریسی اسامیوں کے مقابلے میں صرف 22 ہزار 146 فیکلٹی ممبران دستیاب ہیں، جس کے باعث میڈیکل و ڈینٹل کالجوں کو تدریسی معیار برقرار رکھنے میں بھی مشکلات کا سامنا ہے۔

Scroll to Top