350 اقسام کے آم دینے والا حیرت انگیز درخت

بھارت کی ریاست اتر پردیش کے مشہور آموں کے علاقے ملیح آباد میں واقع ایک باغ دنیا بھر کے کسانوں، ماہرینِ زراعت اور آموں کے شوقین افراد کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔

اس باغ کی شہرت کی وجہ 84 سالہ باغبان کلیم اللہ خان ہیں جنہیں ان کی غیرمعمولی خدمات کے باعث “مینگو مین آف انڈیا” کا لقب دیا گیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق کلیم اللہ خان کے باغ میں موجود ایک درخت پر 350 سے زائد اقسام کے آم اگتے ہیںجن میں الفانسو، کیسر، دسہری، لنگڑا اور چونسہ شامل ہیں۔

حیران کن بات یہ ہے کہ مختلف ذائقوں، رنگوں اور خوشبوؤں والے یہ تمام آم ایک ہی درخت اور ایک ہی جڑ کے نظام سے حاصل ہوتے ہیں۔

یہ انوکھا کارنامہ “گرافٹنگ” (پیوند کاری) کے ذریعے ممکن ہوا، جس میں ایک پودے یا درخت کی شاخ کو دوسرے درخت کے ساتھ جوڑ دیا جاتا ہے۔

اگرچِہ گرافٹنگ کوئی نئی تکنیک نہیں تاہم ایک ہی درخت پر سینکڑوں اقسام کو کامیابی سے برقرار رکھنا برسوں کی محنت، تجربات اور مشاہدے کا نتیجہ ہے۔

کلیم اللہ خان ساتویں جماعت میں ناکامی کے بعد اپنے والد کے باغ سے وابستہ ہوئے اور 1950 کی دہائی کے آخر میں ایک ہی درخت پر مختلف اقسام کے آم اُگانے کے تجربات شروع کیے۔

ابتدائی کوششوں میں ناکامی اور سیلاب کی وجہ سے پہلا تجرباتی درخت تباہ ہونے کے باوجود انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور اپنی تحقیق جاری رکھی۔

انہوں نے 1980 کی دہائی میں اپنے خاندانی باغ کے ایک پرانے درخت کو بنیاد بنا کر دوبارہ تجربات شروع کیے، اور آج یہ 125 سالہ درخت سینکڑوں اقسام کے آم پیدا کر رہا ہے۔

اس درخت کی خاص بات یہ ہے کہ ہر قسم کا آم اپنی اصل خصوصیات برقرار رکھتا ہے، چاہے وہ ریشے دار ہوں، انتہائی میٹھے ہوں یا خوشبودار ہوں۔

یہ بھی پڑھیں : ایک لیٹر میں 900 کلومیٹر سے زائد سفر کرنے والی حیرت انگیز کار تیار

کلیم اللہ خان نے اپنی تیار کردہ بعض نئی اقسام کے نام معروف شخصیات، جن میں سچن ٹنڈولکر، امیتابھ بچن، نریندر مودی اور ایشوریہ رائے شامل ہیں، کے نام پر رکھے ہیں۔

ان خدمات کے اعتراف میں انہیں 2008 میں پدم شری ایوارڈ سے نوازا گیا، جبکہ ان کا نام لمکا بک آف ریکارڈز میں بھی درج ہے۔

آج ان کا باغ آموں کی حیاتیاتی تنوع کا زندہ ذخیرہ ہے، جہاں ملک اور بیرونِ ملک سے آنے والے ماہرین ان کی تکنیک کا مشاہدہ کرتے ہیں۔

عمر اور صحت کے مسائل کے باوجود کلیم اللہ خان کا مشن جاری ہے اور ان کے صاحبزادے ناظم اللہ خان اس ورثے کو آگے بڑھا رہے ہیں۔

Scroll to Top