راولپنڈی میں سیکیورٹی کے حوالے سے ایک تشویشناک واقعہ پیش آیا ہے جہاں اڈیالہ جیل سے علاج کی غرض سے بینظیر بھٹو اسپتال منتقل کیا گیا ایک سزا یافتہ قیدی مبینہ طور پر اسپتال سے فرار ہوگیا۔
واقعے کے بعد پولیس اور جیل انتظامیہ میں تشویش کی لہر دوڑ گئی جبکہ فرار ہونے والے مجرم کی تلاش کے لیے کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔
پولیس حکام کے مطابق فرار ہونے والے قیدی کی شناخت جمیل کے نام سے ہوئی ہے جو منشیات کے مقدمے میں گرفتار ہوا تھا۔ عدالت کی جانب سے اسے 9 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی اور وہ اڈیالہ جیل میں اپنی سزا کاٹ رہا تھا۔
حکام کے مطابق مجرم جمیل کو طبیعت خراب ہونے پر علاج کے لیے اڈیالہ جیل سے بینظیر بھٹو اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔ تاہم دورانِ علاج وہ اسپتال سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا، جس کے بعد متعلقہ اداروں میں ہنگامی صورتحال پیدا ہوگئی۔
واقعے کے بعد راولپنڈی پولیس نے تھانہ وارث خان میں مقدمہ درج کر لیا ہے۔ مقدمے میں ڈیوٹی پر تعینات اے ایس آئی عمران احمد اور کانسٹیبل قمر علی کو بھی نامزد کیا گیا ہے تاکہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں : چارسدہ: ایف آئی اے کا نادرا سینٹر پر چھاپہ، 4 نادرا اہلکار گرفتار
مقدمے کے متن کے مطابق مجرم جمیل کو اس کے بیٹے عدنان اور ایک نامعلوم شخص نے مبینہ طور پر وہیل چیئر پر وارڈ سے باہر منتقل کیا۔ بعد ازاں اسے ایک گاڑی میں بٹھا کر اسپتال سے فرار کروا دیا گیا۔
پولیس نے مقدمہ درج کرنے کے بعد تحقیقات کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے جبکہ فرار ہونے والے مجرم، اس کے بیٹے اور معاونت کرنے والے دیگر افراد کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے بھی مارے جا رہے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ واقعے میں غفلت یا معاونت کے کسی بھی عنصر کو نظر انداز نہیں کیا جائے گا اور تحقیقات کی روشنی میں ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔





