وزیراعلیٰ کون، گورنر کون؟ گلگت بلتستان کی سیاست میں اہم پیش رفت

شیراز احمد شیرازی

گلگت بلتستان میں نئی سیاسی صف بندی کے آثار نمایاں ہونے لگے ہیں اور ذرائع کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے درمیان مشترکہ حکومت کے قیام کے حوالے سے اہم مشاورت جاری ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان اسمبلی میں پاکستان پیپلز پارٹی سنگل لارجسٹ جماعت کی حیثیت رکھتی ہے، جس کے باعث حکومت سازی کے عمل میں اس کا کردار کلیدی تصور کیا جا رہا ہے۔

دونوں جماعتوں کے درمیان اتحاد کے لیے مختلف امور پر تبادلہ خیال جاری ہے اور اس اتحاد کو ماضی میں وفاقی سطح پر قائم ہونے والے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) ماڈل کی طرز پر تشکیل دینے کی تجویز زیر غور ہے۔

ذرائع کے مطابق مجوزہ فارمولے کے تحت وزیراعلیٰ کا عہدہ پاکستان پیپلز پارٹی کے حصے میں آنے کا امکان ہے، جبکہ گورنر گلگت بلتستان کا منصب مسلم لیگ (ن) کو دیے جانے پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے دونوں جماعتوں کی قیادت اور مقامی رہنماؤں کے درمیان رابطے تیز ہو گئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق اتحادی حکومت میں وزارتوں اور دیگر اہم انتظامی عہدوں کی تقسیم کے لیے بھی مختلف تجاویز زیر بحث ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : گلگت بلتستان انتخابات متنازع بن گئے؟ جے یو آئی (ف) نے شفافیت پر سوال اٹھا دیا

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزارتوں کی تقسیم کے لیے 60 اور 40 فیصد کے فارمولے پر مشاورت جاری ہے، جس کے تحت اکثریتی حصہ پیپلز پارٹی جبکہ باقی حصہ مسلم لیگ (ن) کو مل سکتا ہے۔

سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر دونوں جماعتوں کے درمیان معاملات طے پا گئے تو گلگت بلتستان میں ایک مضبوط اتحادی حکومت وجود میں آ سکتی ہے، جو خطے میں سیاسی استحکام اور ترقیاتی منصوبوں کے تسلسل میں اہم کردار ادا کرے گی۔

تاہم دونوں جماعتوں کی جانب سے تاحال کسی حتمی معاہدے یا فارمولے کا باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔

Scroll to Top