پشاور میں کیا طے پایا؟ مولانا فضل الرحمان اور وزیراعلیٰ کی ملاقات کے بعد بڑا اعلان

اعجاز آفریدی
پشاور: خیبرپختونخوا کے آئینی، مالی اور انتظامی حقوق کے معاملے پر اہم سیاسی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے صوبے کو درپیش اہم مسائل پر یکساں مؤقف اختیار کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

پشاور میں مفتی محمود مرکز میں ہونے والی ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دونوں رہنماؤں نے این ایف سی ایوارڈ، امن و امان، گیس کی فراہمی، گندم کی ترسیل، ضم شدہ اضلاع کی صورتحال اور صوبائی خودمختاری کے معاملات پر تفصیلی گفتگو کی۔

یہ بھی پڑھیں : وزیراعلیٰ کون، گورنر کون؟ گلگت بلتستان کی سیاست میں اہم پیش رفت

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ ملاقات کا بنیادی مقصد صوبے کے حقوق کے تحفظ کے لیے سیاسی ہم آہنگی پیدا کرنا تھا۔

ان کے بقول خیبرپختونخوا کو این ایف سی ایوارڈ میں اس کا جائز حصہ ملنا چاہیے اور اس حوالے سے تمام سیاسی قوتوں کو ایک صفحے پر آنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے عوام کو ان کے آئینی حقوق سے محروم رکھنا کسی صورت قابل قبول نہیں۔

انہوں نے وفاقی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا کے ساتھ امتیازی رویہ اختیار کیا جا رہا ہے، جبکہ ضم شدہ اضلاع کے عوام بھی وہی سہولیات اور حقوق چاہتے ہیں جو ملک کے دیگر بڑے شہروں کے شہریوں کو حاصل ہیں۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ وفاقی حکام کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں میں بھی یہ نکات بھرپور انداز میں اٹھائے گئے ہیں۔

گندم کی بین الصوبائی ترسیل کے معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے پنجاب سے خیبرپختونخوا گندم کی آمد روکنے کے فیصلے کو آئین کے آرٹیکل 151 سے متصادم قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ آزاد تجارت اور اشیائے ضروریہ کی نقل و حمل پر پابندیاں نہ صرف غیر آئینی ہیں بلکہ عوامی مفاد کے بھی خلاف ہیں۔ اس مسئلے پر مولانا فضل الرحمان کے ساتھ مکمل اتفاق رائے پایا گیا ہے۔

سہیل آفریدی نے قدرتی گیس کی فراہمی کے مسئلے پر بھی وفاق سے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا ملک کے گیس پیدا کرنے والے اہم صوبوں میں شامل ہے، مگر اس کے باوجود یہاں کے عوام اپنی ہی پیداوار سے مناسب فائدہ حاصل نہیں کر پا رہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ آئین اور قانون کے مطابق صوبے کو اس کا حق دیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں : وزیراعلی سہیل آفریدی کی مفتی محمود مرکز آمد،مولانا فضل الرحمان سے ملاقات

وزیراعلیٰ نے صوبائی بجٹ کے حوالے سے بھی گفتگو کی اور کہا کہ بجٹ عوامی فلاح اور ترقیاتی ترجیحات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جمہوری نظام میں رائے کا اختلاف فطری امر ہے اور اسے سیاسی بحران سے تعبیر نہیں کیا جانا چاہیے۔

اس موقع پر مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ صوبوں کا آئینی استحقاق ہے اور اس میں کسی قسم کی کمی آئینی اصولوں کے منافی ہوگی۔

انہوں نے زور دیا کہ صوبوں کو مالی خودمختاری اور وسائل پر مکمل حق ملنا چاہیے تاکہ وفاقی اکائیوں کے درمیان اعتماد کو فروغ دیا جا سکے۔

جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے قدرتی وسائل اور معدنی ذخائر پر مقامی آبادی کا حق تسلیم کیا جانا چاہیے۔

ان کے مطابق بعض علاقوں میں طاقتور عناصر کی جانب سے معدنی وسائل پر غیر قانونی قبضے کی اطلاعات تشویشناک ہیں، جن کے خلاف مؤثر کارروائی ناگزیر ہے۔

امن و امان کی صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ صوبے کے جنوبی اضلاع سمیت مختلف علاقوں میں سیکیورٹی چیلنجز بڑھ رہے ہیں اور حکومتی رٹ کو مضبوط بنانے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو مشترکہ حکمت عملی اپنانا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ امن کا قیام صوبے کی ترقی اور عوامی خوشحالی کے لیے بنیادی شرط ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے مدارس رجسٹریشن قانون پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ وفاق میں منظور ہونے والے قانون کا اطلاق خیبرپختونخوا میں بھی یکساں طور پر ہونا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں : پشاور، تھانہ بڈھ بیر واقعہ ،پولیس سرچ آپریشن جاری

انہوں نے ضم شدہ اضلاع کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انضمام کے کئی سال گزرنے کے باوجود وہاں انتظامی اور ترقیاتی مسائل بدستور موجود ہیں، جن کے حل کے لیے عملی اقدامات ضروری ہیں۔

انہوں نے پنجاب سے گندم کی ترسیل پر عائد پابندی کو نہ صرف غیر آئینی بلکہ انسانی حقوق کے منافی قرار دیتے ہوئے وفاقی حکومت سے اس فیصلے پر فوری نظرثانی کا مطالبہ کیا۔

مشترکہ پریس کانفرنس کے اختتام پر وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور مولانا فضل الرحمان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ خیبرپختونخوا کے آئینی حقوق، وسائل کی منصفانہ تقسیم، امن و امان کے قیام اور ضم شدہ اضلاع کے مسائل کے حل کے لیے تمام ممکنہ فورمز پر مشترکہ جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔

Scroll to Top