تل ابیب: اسرائیلی مصنف اور کالم نویس گڈیون لیوی نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے ایران سے متعلق مؤقف پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیتن یاہو کو اب یہ بات سمجھ آ چکی ہے کہ وہ ایران کے خلاف ہار چکے ہیں، تاہم وہ اسے تسلیم نہیں کر رہے۔
اپنے بیان میں گڈیون لیوی نے کہا کہ شکست کو تسلیم کرنا مشکل ہوتا ہے لیکن حقیقت تبدیل نہیں کی جا سکتی۔ ان کے مطابق ایران کو تباہ کرنا نیتن یاہو کی زندگی کا بنیادی مشن تھا، تاہم دو مرحلوں پر مشتمل جنگ کے بعد یہ واضح ہو چکا ہے کہ یہ مقصد حاصل نہیں کیا جا سکا۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل ایران کے خلاف اب تک کوئی واضح یا حتمی مقصد حاصل نہیں کر سکا۔
یہ بھی پڑھیں : اپاچی ہیلی کاپٹر گرانے کے الزام پر ایران کا سخت ردعمل
اسرائیلی مصنف کے مطابق بعض اسرائیلی رہنما جو امریکا کو نظر انداز کر کے ایران کے خلاف مزید کارروائیوں کا مشورہ دیتے ہیں، وہ دراصل صورتحال کو مزید تباہی کی طرف لے جا رہے ہیں۔
گڈیون لیوی نے مزید کہا کہ آئندہ کسی ممکنہ حملے کے باوجود بھی اسرائیل ایران کو شکست دینے میں کامیاب نہیں ہو سکے گا، اور موجودہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ خطے میں طاقت کا توازن تبدیل ہو چکا ہے۔





