طبی ماہرین نے ذیابیطس کو ایک ایسے “خاموش قاتل” سے تعبیر کیا ہے جس کی ابتدائی علامات اکثر نظرانداز کر دی جاتی ہیں، حالانکہ بروقت تشخیص اور علاج سنگین پیچیدگیوں سے بچاؤ میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ٹائپ ٹو ذیابیطس جسم میں آہستہ آہستہ نشوونما پاتی ہے، جس کے باعث اس کی ابتدائی علامات کو سمجھنا اور ان پر توجہ دینا انتہائی ضروری ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق ذیابیطس کی سب سے عام ابتدائی علامات میں بار بار پیشاب آنا اور شدید پیاس لگنا شامل ہیں۔ یہ کیفیت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب جسم خون میں موجود اضافی گلوکوز کو پیشاب کے ذریعے خارج کرنے کی کوشش کرتا ہے، جس کے نتیجے میں جسم میں پانی کی کمی واقع ہو سکتی ہے۔
اسی طرح مستقل تھکن اور کمزوری کا احساس بھی ایک اہم علامت ہے۔ اگر مناسب خوراک کے باوجود فرد خود کو مسلسل تھکا ہوا محسوس کرے تو یہ اس بات کی نشاندہی ہو سکتی ہے کہ جسم گلوکوز کو توانائی میں مؤثر طریقے سے تبدیل نہیں کر پا رہا۔
ماہرین کے مطابق بعض افراد میں کھانے کے فوراً بعد بھی مسلسل بھوک کا احساس برقرار رہتا ہے، کیونکہ جسمانی خلیات کو مطلوبہ توانائی نہیں مل پاتی۔ اس کے علاوہ خون میں شوگر کی زیادتی بینائی پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے، جس سے آنکھوں میں دھندلا پن پیدا ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : اپاچی ہیلی کاپٹر گرانے کے الزام پر ایران کا سخت ردعمل
مزید برآں، جسم پر لگنے والے معمولی زخموں کا دیر سے بھرنا، بار بار انفیکشن ہونا اور بغیر کسی واضح وجہ کے وزن میں کمی بھی ذیابیطس کی اہم علامات میں شمار کی جاتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق ایسی صورت میں جسم توانائی کے حصول کے لیے چربی اور پٹھوں کو استعمال کرنا شروع کر دیتا ہے۔
طبی ماہرین نے زور دیا ہے کہ ان علامات کو معمولی سمجھ کر نظرانداز نہ کیا جائے اور بروقت طبی معائنہ کروا کر ذیابیطس کی تشخیص اور علاج کو یقینی بنایا جائے تاکہ مستقبل میں پیچیدگیوں سے بچا جا سکے۔





