واشنگٹن: امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کی جانب سے ایران پر حملوں کی تصدیق کے بعد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی انتہائی سنگین ہوگئی ہے۔ حملوں کے بعد تہران سمیت ایران کے مختلف شہروں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔
ایرانی خبر ایجنسی کے مطابق دارالحکومت تہران اور بندرعباس میں بھی دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ اسی طرح جزیرہ کیش اور شہر سیریک میں بھی زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جس کے بعد مقامی سطح پر خوف و ہراس پھیل گیا۔
U.S. Central Command forces began launching additional self-defense strikes today at 5:15 p.m. ET against multiple targets in Iran at the Commander in Chief’s direction. The strikes are in response to Iran’s unwarranted and continued aggression.
— U.S. Central Command (@CENTCOM) June 10, 2026
امریکی سینٹکام کا کہنا ہے کہ ایران پر یہ کارروائیاں “بلاجواز اور مسلسل جارحیت” کے جواب میں کی جا رہی ہیں، تاہم حملوں کی نوعیت اور مکمل تفصیلات فوری طور پر واضح نہیں ہو سکیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق دھماکوں کی وجوہات کا تعین کیا جا رہا ہے، جبکہ مغربی تہران میں فضائی دفاعی نظام کو فعال کر دیا گیا ہے تاکہ ممکنہ مزید حملوں کو روکا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں : امریکہ آج رات ایران پر بڑا حملہ کرے گا، اہم تنصیبات پر بمباری ہوگی، امریکی وزیر جنگ
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت الفاظ میں دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ گزشتہ روز بھی ایران پر شدید حملے کیے گئے تھے اور آج بھی کارروائیاں جاری رہیں گی۔
دوسری جانب امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ نے اعلان کیا تھا کہ امریکہ آج رات ایران پر بڑا حملہ کرے گا جس میں اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا جائے گا۔
خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور مسلسل حملوں کی اطلاعات کے بعد عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ ہوگیا ہے جبکہ صورتحال انتہائی غیر یقینی رخ اختیار کر چکی ہے۔





