ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ مفاہمتی یادداشت سے متعلق شائع کسی تفصیلات کی تصدیق نہیں کر سکتا، قیادت کے فیصلہ سے پہلے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے وقت یا مقام پر تبصرہ نہیں کیا جا سکتا۔
اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ داخلی مشاورت حتمی نتیجے تک پہنچنے کے آخری مرحلے میں ہے، معاہدے کے قریب ہونے کا دعویٰ کوئی نیا نہیں، اصل مسئلہ دوسرے فریق کے متضاد بیانات ہیں۔
واضح رہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مجوزہ معاہدے پر ہفتے کے اختتام یا پیر تک دستخط کیے جا سکتے ہیں۔
ایک امریکی اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی جانب سے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت سے متعلق سوشل میڈیا پوسٹ کو مثبت پیش رفت سمجھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا اور ایران معاہدے پر ہفتے کے آخر میں یا پیر تک دستخط ہوسکتے ہیں، ٹرمپ
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران سے سرکاری میڈیا میں معاہدے کی تفصیلات کے حوالے سے شائع ہونے والی رپورٹس پر وضاحت طلب کی گئی تھی۔ ان کے مطابق ایران نے نجی سطح پر غلط معلومات جاری ہونے پر معذرت بھی کی ہے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان جاری مذاکرات میں پیش رفت ہو رہی ہے اور معاہدے کو حتمی شکل دینے کی کوششیں جاری ہیں





