انتخابات سے متعلق پھر بڑا مطالبہ،مولانا فضل الرحمان میدان میں آگئے

چارسدہ: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ امریکی صدر کی نظر دنیا کی دولت اور وسائل پر ہے، جبکہ خطے کے وسائل پر قبضے کیلئے مختلف علاقوں میں بے امنی کو فروغ دیا گیا۔

چارسدہ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ برصغیر میں جب تک علماء کی قیادت موجود تھی، امن و استحکام قائم رہا، تاہم جب علماء سے قیادت چھینی گئی تو بے امنی اور انتشار میں اضافہ ہوا۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں فرقہ واریت کو ہوا دینے کی کوشش کی گئی، لیکن جمعیت علمائے اسلام نے اس رجحان کا راستہ روکا اور اتحاد و اتفاق کے فروغ کیلئے کردار ادا کیا۔

مولانا فضل الرحمان نے عام انتخابات پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بقول انتخابات میں ان کی جماعت کے ساتھ دھاندلی کی گئی، جس کا اعتراف بھی کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایسے انتخابات کے نتیجے میں قائم ہونے والی حکومت کو کس بنیاد پر جائز تسلیم کیا جا سکتا ہے۔

جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے مطالبہ کیا کہ انتخابات کے اصل نتائج سامنے لائے جائیں، بصورت دیگر اسمبلی میں حکومت کو آسانی سے کام نہیں کرنے دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کے ساتھ جنگ اور امریکا و ایران کے درمیان ثالثی کے معاملے پر بھی ان کی جماعت نے حکومت کا ساتھ دیا، تاہم عوامی مسائل اب بھی حل طلب ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : خیبر پختونخوا اسمبلی کے بجٹ اجلاس کا ایجنڈا جاری

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ غریب آدمی کو دو وقت کی روٹی میسر نہیں، جبکہ حکمران عیش و عشرت کی زندگی گزار رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ملک کو درست سمت میں چلانا ہے تو جے یو آئی کیلئے سیاسی راستے کھولنا ہوں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں آئین اور دلیل کی سیاست کے بجائے طاقت کی سیاست کو فروغ دیا جا رہا ہے، جو جمہوری نظام کیلئے نقصان دہ ہے۔

افغانستان کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے مولانا فضل الرحمان نے زور دیا کہ دونوں ممالک کے درمیان موجود مسائل کو مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے تاکہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام قائم ہو سکے۔

Scroll to Top