اایرانی ریال عالمی منڈی میں شدید اتار چڑھاؤ کا شکار ہونے کے بعد امریکی ڈالر کے مقابلے میں تاریخ کی کمزور ترین سطح پر برقرار ہے۔
اوپن مارکیٹ میں ایک امریکی ڈالر کی قیمت تقریباً 17 لاکھ 50 ہزار سے بڑھ کر 17 لاکھ 56 ہزار 500 ریال تک جا پہنچی ہےتاہم اس ریکارڈ گراوٹ کے باوجود پاکستان میں ایرانی کرنسی کی خرید و فروخت میں شہریوں کی دلچسپی تاحال برقرار ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی پابندیوں، شدید معاشی دباؤ اور علاقائی کشیدگی کے باعث ایرانی ریال کو مسلسل گراوٹ کا سامنا ہے اور اس کی قدر شدید دباؤ میں ہے۔
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران میں سرکاری زرِ مبادلہ کی شرح کے مقابلے میں اوپن مارکیٹ ریٹ کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے کیونکہ بیشتر تجارتی لین دین اسی آزاد مارکیٹ کی بنیاد پر انجام پاتے ہیں جہاں بعض اوقات روزانہ کی بنیاد پر ریال کی قیمت میں 8 فیصد یا اس سے بھی زیادہ اتار چڑھاؤ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
پاکستانی کرنسی کے لحاظ سے دیکھا جائے تو ایک ایرانی ریال کی مالیت محض 0.000202 پاکستانی روپے بنتی ہے جبکہ ایک پاکستانی روپے کے بدلے تقریباً 4 ہزار 950 سے 6 ہزار 310 ایرانی ریال حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ کراچی اور لاہور کی اوپن مارکیٹ میں ایک کروڑ ایرانی ریال کا بھاری نوٹ محض 7 ہزار 500 سے 8 ہزار پاکستانی روپے میں دستیاب ہے جہاں بعض مقامی سرمایہ کار مستقبل میں ریال کی قدر بحال ہونے اور منافع کمانے کی امید پر اس کی خریداری میں گہری دلچسپی لے رہے ہیں۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق گزشتہ چند برسوں کے دوران بین الاقوامی پابندیوں، تجارتی رکاوٹوں، بلند افراطِ زر اور زرمبادلہ کے ذخائر تک محدود رسائی نے ایرانی کرنسی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : مایہ نازکھلاڑی لیونل میسی نے فٹبال ورلڈ کپ میں تاریخ رقم کردی
ماہرین نے پاکستان اور ایران کے درمیان مالی لین دین یا تجارت کرنے والے افراد کو الرٹ کیا ہے کہ وہ موجودہ غیر یقینی صورتحال میں کسی بھی قسم کے تبادلے سے قبل مستند اوپن مارکیٹ ریٹس اور لائسنس یافتہ ایکسچینج کمپنیوں سے تازہ ترین معلومات ضرور حاصل کریں تاکہ کسی بھی بڑے مالی نقصان سے بچا جا سکے۔





