امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات کا راستہ کھلا رکھنے کے لیے امریکا نے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای یا دیگر اعلیٰ ایرانی قیادت کو نشانہ نہیں بنایا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا چاہتا تو ایک ہی حملے میں خامنہ ای کے جنازے میں موجود ایرانی قیادت کو نشانہ بنا سکتا تھا تاہم ایسا نہیں کیا گیا کیونکہ اس صورت میں مذاکرات کے لیے کوئی فریق باقی نہ رہتا، ان کا کہنا تھا کہ امریکا نے جان بوجھ کر تحمل کا مظاہرہ کیا تاکہ سفارتی عمل جاری رہ سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران جوہری معاہدہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کے بعد ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات دوبارہ شروع ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان سے محبت نہ ہوتی تو ایران کبھی ثالثی قبول نہ کرتا، ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ اسماعیل بقائی
صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے متعلق بھی کہا کہ انہوں نے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کی درخواست کی ہے، جس پر آئندہ ہفتے ملاقات متوقع ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ نیتن یاہو جانتے ہیں کہ باس کون ہے۔





