مالی سال 2025-26 میں بھی تنخواہ دار طبقہ ملک کا سب سے بڑا ٹیکس دہندہ بن کر سامنے آیا جس نے قومی خزانے میں 633 ارب روپے انکم ٹیکس جمع کرا کے برآمدکنندگان، رئیل اسٹیٹ اور ریٹیل سیکٹر کے مجموعی ٹیکس کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025-26 کے دوران تنخواہ دار افراد کی جانب سے 633 ارب روپے انکم ٹیکس ادا کیا گیا جو ملک کے دیگر بڑے کاروباری شعبوں سے وصول ہونے والے مجموعی انکم ٹیکس سے نمایاں طور پر زیادہ ہے۔
دستاویزات کے مطابق گزشتہ مالی سال میں برآمدکنندگان نے 174 ارب روپے جبکہ رئیل اسٹیٹ سیکٹر سے 191 ارب روپے انکم ٹیکس قومی خزانے میں جمع کرایا۔
اسی طرح ریٹیل سیکٹر سے انکم ٹیکس آرڈیننس کی شق 236-G کے تحت 25 ارب روپے اور شق 236-H کے تحت 45 ارب روپے وصول کیے گئے۔
اعداد و شمار کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے مالی سال 2025-26 کے دوران مجموعی طور پر 13 ہزار 10 ارب روپے کے محصولات جمع کیے، جس میں تنخواہ دار طبقے کا حصہ نمایاں رہا۔
دوسری جانب حکومت نے مالی سال 2026-27 کے لیے ایف بی آر کو 15 ہزار 264 ارب روپے ٹیکس وصولی کا ہدف دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹیکس وصولیاں دوگنی ہو گئیں، ایف بی آر نے 13 ٹریلین روپے کا تاریخی ہدف عبور کر لیا
حکام کے مطابق اس ہدف کے حصول کے لیے ٹیکس نیٹ کو مزید وسعت دینے، ٹیکس وصولی کے نظام کو مؤثر بنانے اور مختلف شعبوں سے محصولات میں اضافے کے لیے نئی حکمت عملی پر عمل درآمد کیا جائے گا۔





