سوات: ضلع سوات کے علاقے شکردرہ میں عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے سینئر نائب صدر ممتاز علی خان کے گھر پر نامعلوم مسلح افراد نے بھاری اسلحے سے حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں ممتاز علی خان کے بھائی اور دو بھتیجے زخمی ہو گئے، جبکہ زخمیوں کو اسپتال منتقل کرنے والی ایمبولینس پر فائرنگ سے ریسکیو 1122 کا ایک ایمرجنسی میڈیکل ٹیکنیشن بھی زخمی ہوگیا۔
پولیس کے مطابق حملے کی اطلاع ملتے ہی بر سوات پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے جوابی فائرنگ کی، جس کے بعد حملہ آور فرار ہوگئے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ واقعے کے دوران پولیس کی بکتر بند گاڑی پر بھی فائرنگ کی گئی، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
واقعے کے بعد علاقے میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی اور شکردرہ و گردونواح میں سرچ اور گرینڈ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔ پولیس مختلف پہلوؤں سے واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : ملک بھر میں آٹے کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ
پولیس حکام کے مطابق آپریشن کی نگرانی ریجنل پولیس آفیسر (آر پی او) ملاکنڈ، ڈی پی او سوات اور ڈی پی او بر سوات نے خود کی۔ بعد ازاں آر پی او ملاکنڈ اور دونوں ضلعی پولیس افسران نے ممتاز علی خان سے ملاقات بھی کی اور انہیں یقین دہانی کرائی کہ حملے میں ملوث عناصر کو جلد گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
آر پی او ملاکنڈ نے کارروائی میں حصہ لینے والے پولیس اہلکاروں کی بہادری کو سراہتے ہوئے کہا کہ سوات پولیس ہر قسم کی صورتحال سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے اور ایسے بزدلانہ حملوں سے پولیس کے حوصلے ہرگز پست نہیں ہوں گے۔





