ایک نئی طبی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ روزانہ کافی پینے کی عادت نہ صرف ذہنی چستی برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہے بلکہ جگر کے سنگین امراض، بشمول جگر کے کینسر، کے خطرے کو بھی نمایاں حد تک کم کر سکتی ہے۔
طبی جریدے Clinical Gastroenterology and Hepatology میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق روزانہ کافی پینے والے افراد میں جگر کے مختلف امراض، جگر کے کینسر اور ان بیماریوں کے باعث موت کا خطرہ نسبتاً کم پایا گیا۔
تحقیق میں ساڑھے تین لاکھ سے زائد افراد کو شامل کیا گیا، جن کی عمریں 40 سے 69 سال کے درمیان تھیں۔
شرکا کو 2006 سے 2010 کے دوران تحقیق کا حصہ بنایا گیا اور اس وقت ان میں سے کوئی بھی جگر کے مرض یا کینسر میں مبتلا نہیں تھا۔ محققین نے ان کی کافی پینے کی عادات کا ریکارڈ جمع کیا اور پھر تقریباً 13 سال تک ان کی صحت کا جائزہ لیا۔
تحقیق کے نتائج کے مطابق روزانہ پانچ یا اس سے زیادہ کپ کافی پینے والے افراد میں جگر کے ٹشوز کی سختی (فائبروسس) کا خطرہ 32 فیصد، جگر کے کینسر کا خطرہ 47 فیصد اور جگر کے امراض سے موت کا خطرہ 42 فیصد تک کم دیکھا گیا۔
یہ بھی پڑھیں : ٹرمپ نے پیوٹن کو یوکرین جنگ کے خاتمے میں تعاون کی پیشکش کر دی
محققین کا کہنا ہے کہ روزانہ ایک سے چار کپ کافی پینے سے بھی جگر کی صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں اور جگر کے امراض کے خطرے میں کسی حد تک کمی آتی ہے۔
تحقیق کے مطابق کافی جگر میں چکنائی اور آئرن کی مقدار کم کرنے کے ساتھ ساتھ ورم میں بھی کمی لانے میں مدد دیتی ہے۔
ماہرین نے بتایا کہ کافی میں موجود قدرتی مرکبات تکسیدی تناؤ اور دائمی سوزش کو کم کرتے ہیں، جو جگر کو نقصان پہنچانے والے اہم عوامل سمجھے جاتے ہیں۔
محققین کے مطابق کافی کی مختلف اقسام جگر کی صحت کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہیں، تاہم اس حوالے سے متوازن مقدار میں استعمال کو ترجیح دی جانی چاہیے۔





