پبلک سروس کمیشن ترمیمی بل

خیبر پختونخوا اسمبلی نے پبلک سروس کمیشن ترمیمی بل منظور کر لیا، گورنر کے انتظامی اختیارات میں کمی

خیبر پختونخوا اسمبلی نے پبلک سروس کمیشن آرڈیننس 1978ء میں ترمیمی بل کثرت رائے سے منظور کر لیا ہے، جس کے تحت صوبائی انتظامی امور میں گورنر کے اختیارات کو محدود کر کے حکومت کے دائرہ اختیار کو وسعت دی گئی ہے۔

یہ ترمیمی بل آئین کے آرٹیکل 242 (1B)، آرٹیکل 105 اور اٹھارہویں آئینی ترمیم کی روشنی میں ایوان میں پیش کیا گیا تھا۔

منظور شدہ بل کے مطابق پبلک سروس کمیشن کے چیئرمین کا تقرر اب گورنر، وزیر اعلیٰ کے مشورے پر کرنے کے پابند ہوں گے، جبکہ کمیشن کے دیگر انتظامی امور میں بھی گورنر کو وزیر اعلیٰ یا صوبائی کابینہ کی سفارشات کے مطابق ہی عمل کرنا ہوگا۔

اس مقصد کے لیے آرڈیننس 1978ء کی دفعات 3، 4، 6، 7، 8 اور 9 میں باقاعدہ ترامیم کی منظوری دی گئی ہے۔

بل کے متن کے تحت آرڈیننس کی متعلقہ دفعات میں جہاں ضرورت تھی، وہاں لفظ “گورنر” کو تبدیل کر کے “حکومت” کا لفظ شامل کر دیا گیا ہے، تاہم چیئرمین کی تقرری سے متعلق آئین کے تحت گورنر کا روایتی کردار برقرار رہے گا۔

یہ بھی پڑھیں : پشاور میں تیز آندھی اور بارش کی تباہ کاری، دیواریں اور چھتیں گرنے سے 8 افراد زخمی

حکومت کے مطابق ترمیمی بل کا بنیادی مقصد پبلک سروس کمیشن کے قانونی و انتظامی ڈھانچے کو آئینی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا اور انتظامی اختیارات کے حوالے سے پائے جانے والے ابہام کو ختم کرنا ہے تاکہ صوبے میں شفافیت، میرٹ اور بہتر طرزِ حکمرانی کو فروغ دیا جا سکے۔

Scroll to Top