17 لاکھ ماہانہ اخراجات والے چڑیا گھر کے لیے صرف ایک ہزار روپے کا بجٹ، ملازمین کی تنخواہیں اور بجلی کنکشن بھی خطرے میں پڑ گئے۔
خیبرپختونخوا حکومت کے بجٹ میں سوات چڑیا گھر کیلئے مختص رقم نے سب کو حیران کر دیا، جہاں اگلے مالی سال کے لیے صرف ایک ہزار روپے کا بجٹ رکھا گیا ہے، جبکہ چڑیا گھر میں موجود سیکڑوں جانوروں کی ماہانہ خوراک کا خرچہ ہی لاکھوں روپے ہے۔
کانجو ٹاؤن شپ میں 93 کنال رقبے پر قائم سوات چڑیا گھر میں مختلف اقسام کے سیکڑوں جانور موجود ہیں، جن کی ماہانہ خوراک کی فراہمی کا ٹھیکہ تقریباً 17 لاکھ روپے ہے۔ تاہم محدود بجٹ کے باعث چڑیا گھر انتظامیہ کو شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے۔
ذرائع کے مطابق چڑیا گھر میں کام کرنے والے 100 سے زائد ملازمین کی تنخواہیں بھی بند ہو چکی ہیں، جبکہ بقایا جات کی عدم ادائیگی کے باعث بجلی کا کنکشن منقطع ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب سوات میں پیسکو کی جانب سے ریکوری مہم جاری ہے، جس کے باعث امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ 31 جولائی کے بعد چڑیا گھر کا بجلی میٹر بھی اتارا جا سکتا ہے۔
جانوروں کو خوراک فراہم کرنے والے ٹھیکیدار نے چڑیا گھر انتظامیہ کو آگاہ کر دیا ہے کہ بجٹ اور ادائیگیوں کے مسائل کے باعث وہ صرف رواں ماہ تک جانوروں کو خوراک فراہم کر سکے گا۔
یہ بھی پڑھیں: افغانستان کے سابق فاسٹ بولر شاپور زدران انتقال کر گئے
انتظامیہ کے مطابق اگر جانوروں کے لیے خوراک اور پانی کی فراہمی متاثر ہوئی تو سیکڑوں جانوروں کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، جس کے منفی اثرات نہ صرف مقامی سطح بلکہ عالمی سطح پر بھی پاکستان اور خیبرپختونخوا کے لیے باعث تشویش بن سکتے ہیں۔
حکام اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ سوات چڑیا گھر کے مالی بحران کے حل کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں تاکہ جانوروں کی دیکھ بھال اور چڑیا گھر کے معاملات معمول کے مطابق جاری رہ سکیں۔





