پاک افغان سرحد کی بندش کو 9 ماہ مکمل، دوطرفہ تجارت شدید بحران کا شکار، تاجروں کو کروڑوں روپے کے نقصانات ہوگیا ۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی گزرگاہ کی بندش کو نو ماہ مکمل ہو گئے ہیں، جس کے باعث دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت شدید متاثر ہو گئی ہے۔ تجارتی سرگرمیاں تقریباً جمود کا شکار ہیں، جبکہ تاجروں، ٹرانسپورٹرز اور درآمد و برآمد کے شعبے سے وابستہ افراد کو کروڑوں روپے کے مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق سرحدی بندش کے باعث افغانستان میں پھلوں، سبزیوں اور دیگر اشیائے خورونوش کی بڑی مقدار خراب ہو چکی ہے، جس سے کاروباری طبقے کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ مسلسل بندش کے باعث تجارتی سرگرمیاں مفلوج ہو چکی ہیں، سامان کی بروقت ترسیل ممکن نہیں رہی اور دونوں جانب کاروبار بری طرح متاثر ہوا ہے۔
کاروباری حلقوں کے مطابق دوطرفہ تجارت میں تعطل کے باعث نہ صرف درآمدات اور برآمدات متاثر ہوئی ہیں بلکہ مقامی منڈیوں میں بھی اشیائے ضروریہ کی فراہمی پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ ٹرانسپورٹرز اور تجارتی شعبے سے وابستہ ہزاروں افراد بھی اس صورتحال سے شدید متاثر ہوئے ہیں۔
دوسری جانب افغان تاجروں اور کاروباری شخصیات کا کہنا ہے کہ سرحد بند ہونے سے افغانستان میں درآمدات اور برآمدات بری طرح متاثر ہوئی ہیں، جس کے باعث مقامی منڈیوں میں اشیائے خورونوش کی دستیابی، قیمتوں اور کاروباری سرگرمیوں پر بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
تجارتی تنظیموں نے دونوں ممالک کی حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ سکیورٹی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے دوطرفہ تجارت کی بحالی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں، تاکہ کاروباری سرگرمیاں دوبارہ معمول پر آ سکیں اور تاجروں کو مزید مالی نقصان سے بچایا جا سکے۔





