پشاور پریس کلب کا اسمبلی قانون میں ترامیم پر اظہارِ تشویش، آزادیٔ صحافت پر کوئی سمجھوتہ نہیں

پشاور: پشاور پریس کلب نے خیبرپختونخوا اسمبلی کے اختیارات، استثنیٰ اور استحقاق سے متعلق قانون میں مجوزہ ترامیم پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ صحافت اور اظہارِ رائے کی آزادی پر کسی قسم کی قدغن قبول نہیں کی جائے گی۔

پشاور پریس کلب کے صدر ایم ریاض، جنرل سیکرٹری عالمگیر خان اور منتخب کابینہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ پریس کلب منتخب عوامی نمائندوں، ارکانِ اسمبلی اور تمام آئینی و جمہوری اداروں کا احترام کرتا ہے اور پارلیمانی بالادستی پر یقین رکھتا ہے۔

تاہم کسی بھی قانون یا ترمیم کی آڑ میں صحافت، آزادیٔ اظہار اور شہریوں کے آئینی حقوق کو محدود کرنے کی ہر کوشش کی بھرپور مخالفت کی جائے گی۔

بیان میں کہا گیا کہ پاکستان میں صحافت کی تاریخ آزادیٔ اظہار کے تحفظ کے لیے دی جانے والی بے مثال قربانیوں سے عبارت ہے، اس لیے ایسے کسی بھی اقدام کو قبول نہیں کیا جا سکتا جو بنیادی آئینی حقوق پر اثرانداز ہو۔

یہ بھی پڑھیں : شارجہ سے کراچی آنے والی کارگو طیارہ لاپتہ، تلاش جاری

پریس کلب کی قیادت کا کہنا تھا کہ پشاور پریس کلب ہمیشہ ذمہ دار، متوازن اور پیشہ ورانہ صحافت کے فروغ کے لیے کردار ادا کرتا رہا ہے، جبکہ صحافی برادری نے نہ صرف عوامی مسائل اجاگر کیے بلکہ خیبرپختونخوا کے حقوق اور مفادات کے تحفظ میں بھی اہم کردار ادا کیا۔

بیان میں امید ظاہر کی گئی کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی صحافی برادری کے تحفظات کا فوری نوٹس لیں گے اور سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی سے مشاورت کے ذریعے ان خدشات کو دور کرتے ہوئے آئین، جمہوری اقدار، آزادیٔ صحافت اور اظہارِ رائے کے بنیادی حق کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔

Scroll to Top