کوئٹہ: زیارت کے علاقے مانگی ڈیم میں پیش آنے والے دہشت گرد حملے کے بعد سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری ہیں، جبکہ واقعے سے متعلق مختلف پیش رفت سامنے آئی ہے۔
حکام کے مطابق مانگی ڈیم واقعے میں اغوا کیے گئے 11 پولیس اہلکاروں کو تاحال بازیاب کرا لیا گیا ہے، جبکہ پولیس فورس کے 9 اہلکار بہادری سے لڑتے ہوئے جان کی قربانی دے چکے ہیں، جن کی نماز جنازہ بھی ادا کر دی گئی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ 15 پولیس اہلکار اب بھی لاپتا ہیں، جن کی بازیابی کے لیے فرنٹیئر کور (ایف سی) اور پولیس کا مشترکہ سرچ آپریشن جاری ہے۔
سرکاری معلومات کے مطابق مانگی ڈیم حملے میں فتنہ الہندستان اور فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے 15 دہشت گرد مارے گئے، جبکہ دیگر کے زخمی ہونے کی اطلاعات بھی ہیں۔
ادھر مغوی پولیس اہلکاروں کی بازیابی کے مطالبے پر لواحقین کی جانب سے زیارت کراس کے مقام پر جاری دھرنا وزیراعلیٰ کی آمد اور کامیاب مذاکرات کے بعد ختم کر دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں : زیارت مانگی حملے کا بھرپور جواب، فتنہ الخوارج کے15 دہشتگرد ہلاک، کلیئرنس آپریشن مکمل
دوسری جانب ہنہ اوڑک میں دو روز قبل مقامی آبادی پر ہونے والے حملے میں زخمی ہونے والا ایک اور شخص دم توڑ گیا، جس کے بعد جاں بحق ہونے والے مقامی افراد کی تعداد پانچ ہو گئی، جبکہ متعدد زخمی مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔
ہنہ اوڑک واقعے کے خلاف لواحقین نے احتجاجاً شہر کی مصروف ترین شاہراہ ائیرپورٹ روڈ بند کر رکھی ہے۔ متاثرین کا دھرنا دوسرے روز بھی جاری ہے اور مظاہرین نے فتنہ الہندستان کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔





