وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا وزیراعظم کو خط، ضم اضلاع اور مالاکنڈ ڈویژن کا ٹیکس استثنیٰ برقرار رکھنے کا مطالبہ

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا وزیراعظم کو خط، ضم اضلاع اور مالاکنڈ ڈویژن کا ٹیکس استثنیٰ برقرار رکھنے کا مطالبہ

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے وزیراعظم شہباز شریف کو ایک خط ارسال کیا ہے جس میں انہوں نے ضم اضلاع اور مالاکنڈ ڈویژن سے ٹیکس استثنیٰ ختم کرنے کے مجوزہ فیصلے پر نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ ضم اضلاع اور مالاکنڈ ڈویژن سے ٹیکس استثنیٰ کا خاتمہ عوامی تشویش کا باعث ہے جبکہ خیبرپختونخوا اسمبلی بھی اس حوالے سے اپنے شدید تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔

وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے واضح کیا کہ خیبرپختونخوا حکومت منصفانہ ٹیکس نظام کی حامی ہے تاہم اصل مسئلہ ٹیکس نہیں بلکہ انضمام کے وقت وفاق کی جانب سے کیے گئے وعدوں سے انحراف ہے۔

انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کو یاد دہانی کرائی کہ ضم اضلاع کا خیبرپختونخوا میں انضمام وفاق کی جانب سے مالی، آئینی اور ادارہ جاتی معاونت کے واضح وعدوں کے ساتھ عمل میں آیا تھا۔

خط کے مطابق انضمام کے وقت کیے گئے وفاقی وعدے آج بھی پورے نہیں ہوئے اور خیبرپختونخوا انضمام کا تمام اضافی بوجھ تنہا اٹھا رہا ہے۔

وزیراعلیٰ نے شکایت کی کہ ضم اضلاع کے لیے نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) میں طے شدہ حصہ تاحال خیبرپختونخوا کو فراہم نہیں کیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن صوبے کے طور پر بے مثال انسانی، معاشی اور انفراسٹرکچر کے نقصانات برداشت کر چکا ہے۔

صوبہ امن و امان، انسداد دہشت گردی، متاثرہ علاقوں کی بحالی اور تباہ شدہ انفراسٹرکچر کی تعمیر نو پر مسلسل بھاری مالی بوجھ برداشت کر رہا ہے۔

وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ افغانستان کے ساتھ سرحدی تجارت کی بندش نے بھی ضم اضلاع کی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ پسماندگی، ناکافی انفراسٹرکچر اور توانائی کے مسائل آج بھی اس خطے کی معاشی ترقی میں بڑی رکاوٹ ہیں۔

وزیراعلیٰ نے مؤقف اختیار کیا کہ ضم اضلاع اور مالاکنڈ ڈویژن کو ٹیکس استثنیٰ سرمایہ کاری، روزگار اور معاشی ترقی کے فروغ کے لیے دیا گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ جن معاشی و سماجی حالات کی بنیاد پر یہ ٹیکس استثنیٰ دیا گیا تھا، وہ حالات آج بھی بڑی حد تک برقرار ہیں۔

وفاقی وعدوں کی تکمیل سے قبل ٹیکس استثنیٰ کا خاتمہ سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی، معاشی بحالی میں رکاوٹ اور مقامی کاروبار پر اضافی بوجھ کا سبب بنے گا۔

وزیراعلیٰ نے خط میں لکھا کہ وفاقی حکومت نے مجوزہ ٹیکس اقدامات کا جائزہ لینے کے لیے وفاقی وزیر بین الصوبائی رابطہ کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کی تھی۔

متعلقہ کمیٹی محدود اجلاسوں کے باوجود ان مجوزہ ٹیکس اقدامات پر کوئی حتمی سفارشات مرتب کرنے میں ناکام رہی۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ صوبائی حکومت اور مقامی اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیے بغیر ہی ٹیکس استثنیٰ ختم کرنے کا یکطرفہ فیصلہ کیا گیا۔

وزیراعلیٰ نے خبردار کیا کہ حساس سرحدی علاقوں میں ایسے فیصلوں کے امن و امان کی صورتحال پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

خط میں بتایا گیا ہے کہ خیبرپختونخوا اسمبلی نے ایک متفقہ قرارداد کے ذریعے وفاقی حکومت سے مجوزہ ٹیکس اقدامات مؤخر کرنے کا مطالبہ کر رکھا ہے۔

وزیراعلیٰ نے مطالبہ کیا کہ وفاقی حکومت ضم اضلاع اور مالاکنڈ ڈویژن سے ٹیکس استثنیٰ واپس لینے کا فیصلہ فوری طور پر مؤخر کرے۔

یہ بھی پڑھیں : خیبرپختونخوا اسمبلی میں سابقہ فاٹا اور پاٹا میں ٹیکسوں کے نفاذ کے خلاف قرارداد متفقہ طور پر منظور

انہوں نے زور دیا کہ وفاقی وعدوں کی تکمیل اور ٹیکس استثنیٰ کی بنیاد بننے والے حالات میں واضح بہتری آنے تک موجودہ ٹیکس استثنیٰ کو برقرار رکھا جائے۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے امید ظاہر کی ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کا احترام کرتے ہوئے اس سلسلے میں مثبت فیصلہ کریں گے۔

Scroll to Top